263

اب ۹۲ سے 92 تک – تہلکہ خیز داستان : اوریا مقبول جان

قبلہ والد صاحب جب کبھی کوئی تحریرلکھنے لگتے توکاغذ کے اوپرعین درمیان میں ۷۸۶(سات سوچھیاسی)لکھتے. پھراس کے نیچے ایک ایسی لکیرکھینچتے جوعموماً کشیدہ الفاظ کے لئے کھینچتی جاتی ہے اوراس کے نیچے ۹۲لکھتے. یوں تحریرکے اوپراس طرح کی ایک مہریا مونوگرام(۷۸۶/۹۲)سا بن جاتا. یہ وہ زمانہ تھا جب خط کوآدھی ملاقات تصورکیا جاتا تھا. نہ ٹیلی فون تھے اورنہ کوئی اوررابطے کا ذریعہ، اگرکہیں کوئی فوری اطلاع پہنچانا مقصود ہوتی توٹیلی گرام کے ذریعے مختصرسا پیغام بھجوا دیا جاتا. خط میں سوطرح کے اظہارِ محبت ہوتے اورگلے شکوے بھی. اردوادب کے دامن سے اگرغالب کے خطوط نکال دیے جائیں تواردو نثراپنے بیش بہا خزانے سے محروم ہوجائے. خط لکھنے کی ترغیب والدین اپنے بچوں کوبچپن سے ہی دیا کرتےتھے. خطوط اس قدرسنبھال کررکھے جاتے جیسے کوئی جائیداد ہو. مدتوں مختلف لکڑی کے بکسوں، صندوقوںچرمی بیگوں وغیرہ میں محفوظ کیے جاتے.

بچہ ذرا سا لکھنا پڑھنا سیکھتا تواس سے خط لکھوایا جاتا، جواس کی توتلی زبان جیسی گفتگومیں تحریرہوتا. گزشتہ دنوں میرے والد اورتایا ابا کے آپس میں لکھے گئے خطوط کی ایک گٹھڑی جومیرے تایازاد بھائیوں کے پاس تھی، اسے کھولا گیا تواس میں سے انیس سو باسٹھ میں لکھا گیا میرا ایک خط ملا جس کے اوپراسی طرح ۷۸۶/۹۲ لکھا ہوا تھا. 1962ء میں میری عمرصرف چھ سال تھی، لیکن اس خط سے یوں لگتا ہے کہ میرے والد اس ۷۸۶/۹۲ کی مہرکومیری زندگی کی علامت کے طورپرثبت کرنا چاہتے تھے. مجھے اس بات کا توعلم تھا کہ میرے والد خطتحریرکے آغاز میں سات سوچھیاسی کیوں لکھتے ہیں، کیونکہ عمومی طورپراس زمانے کا ایک رواج بھی تھا کہ خط کے آغاز میں اول اول بسم اللہ الرحمٰن الرحیم لکھا جاتا رہا اورپھریہ مختصرہوتا ہوا بسم تعالی پرآ گیا. لیکن سات سوچھیاسی اس کے متبادل کے طورپرلکھا جاتا کیونکہ حروف ابجد کے تحت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے اعداد ۷۸۶ بنتے تھے.

خط کے آغاز میں بسم اللہ کی جگہ اسے لکھنے کا رواج اس لئے عام ہوا کہ اگرخط کہیں پھینکناتلف کرنا ہوتوبسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی بے حرمتی نہ ہونے پائے. مدتوں یہ دستوراوررواج ہماری زندگیوں میں‌ شامل رہا، بلکہ آج بھی برکت کی نیت سےپھراللہ تبارک تعالیٰ‌ کے ساتھ ایک تعلق استوار کرنے کے لئے لوگ گاڑیوں کے نمبریا بریف کیسوں کے نمبر۷۸۶ رکھتے ہیں. لیکن میری زندگی میں جوحرفاعداد باقی لوگوں سے مختلف تھے اورجو عمومی طورپرخطوط کے آغاز میں‌ نہیں‌ لکھے جاتے تھے وہ ۹۲ تھے. مدتوں‌ میں بغیرسوچے سمجھے اپنے والد کی اقتدا میں یہ اعداد کسی بھی تحریرکے آغاز میں لکھتا رہا. اچانک ایک دن میرے استاد مولوی عارف جوکہ عارف باللہ بھی تھے انہوں نے میرے امتحانی پرچہ کے شروع میں ان اعداد کودیکھا تومجھے پاس بلا کرکہا کہ سات سوچھیاسی توٹھیک ہے یہ تم بیانوے کیوں لکھتے ہو.

مجھے ایسا لگا کہ جیسے مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہوتی رہی ہے، میں نے ایک دم جواب دیا والد صاحب ایسا کرتے ہیں. مولوی عارف صاحب نے مجھے سینے سے لگایا اورمیرے دل کے اوپرایک گول دائرہ بناتے ہوئے کہا کہ اس پربھی ۹۲ لکھ کردکھاؤ. میں نے اس کا تذکرہ والد صاحب سے کیا اورپوچھا کہ یہ ۹۲ کیا چیز ہے. میرے والد کا ایک عمومی دستورتھا کہ جب کبھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکران کے سامنے لیا جاتاوہ خودکرتے توان کی آنکھیں ڈبڈبا جاتیں. میرے اس سوال پربھی ایسا ہی ہوا اورانہوں نے جواب دیا کہ ۹۲ دراصل اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اعداد ہیں.ٹھیک پچپن سال بعد آج سے ایک سال قبل جب میں نے روزنامہ 92 میں لکھنے کے لئے ارشاد احمد عارف صاحب کے ساتھ حامی بھری تویوں لگتا تھا کہ پچپن سال پرانی کسی زنجیرکی کڑی ہے جو ان اعداد سے جڑنے کے لئے بے تاب ہے. یہی وجہ ہے کہ اس اخبارمیں لکھنے کے لئے مجھے نہ یہ سوال کرنے کا تردد پیش آیا کہ میرا معاوضہ کیا ہوگا .

اورنہ ہی یہ سوچ ذہن پرسوارہوئی کہ ایک بہت حد تک مستحکم اورمقبول اخبارکوچھوڑ کرایک بالکل نئے اخبارمیں کیوں لکھنا شروع کردوں. بس صرف اخبارکا نام سنا اورچند سیکنڈز میں فیصلہ کرلیا. اس پرخود ارشاد احمد عارف صاحب بھی حیران رہ گئے. اخبارمیں لکھنے کا میرا سفریوں تو 1972ء سے گجرات کے ایک مقامی اخبارالحدید میں سیاسی نظمیں لکھنے سے شروع ہوتا ہے. بے سروسامانی میں جب ستمبر 1976ء میں پنجاب یونیورسٹی میں‌ داخلہ ملا، تونہ ہوسٹل میں رہنے کے پیسے تھے اورنہ ہی فیس ادا کرنے کا سرمایہ. گجرات میں ان دنوں‌ نثری نظموں کے مجد مبارک احمد مکین تھے. انہوں نے مجھے یونیورسٹی کے اخراجات کے لئے جزوقتی ملازمت حاصل کرنے کے لیے تین سفارشی خطوط دیے. پہلا خط ریڈیوپاکستان کے ڈائریکٹرعبدالستارسید کے نام تھا تاکہ مجھے وہاں‌ کوئی کام مل سکے، دوسرا خط پاکستان ٹیلی ویژن کے سکرپٹ ایڈیٹرسرمد صہبائی کے نام تھا کہ میں کوئی چھوٹی موٹی تحریرلکھ کراپنا یونیورسٹی کا خرچہ نکال سکوں‌ جبکہ تیسرا خط کشورناہید کے نام تھا

جو اس وقت محکمہ اطلاعات کے رسالوں ماہ نو اورپاک جمہوریت کی انچارج تھیں. ریڈیوپاکستان اورٹیلی ویژن کے خطوط توکسی کام نہ‌ آ سکے، البتہ کشورناہید نے مجھے پاک جمہوریت کے ایڈیٹرقائم نقوی کے سپردکیا کہ میں وہاں معاوضے پرلکھنا شروع کروں. اس زمانے میں پاک جمہوریت میں مضمون لکھنے کا معافضہ پچاس روپے تھا اوریہ سلسلہ اس لئے مستقل طورپرمیرے ساتھ بندھ گیا کہ یہ میرے تعلیمی اخراجات پوراکرنے کے لئے ضروری تھا پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کرے کے بعد 1979ء میں فاؤنٹین ہاؤس میں نفسیاتی معالج اورپھرایک سال بعد بلوچستان میں لیکچرشپ کی وجہ سے میرا تعلق براہ راست اخبارمیں لکھنے سے منقطع ہوگیا، البتہ شاعری جومیرا پہلا جنوں تھی وہ چلتی رہی. میری غزلیں اورنظمیں اخبارات اوررسائل میں چھپتی رہیں مگراخبارمین براہ راست لکھنے کا تعلق ختم سا ہوگیا. 1984ء میں سول سروس کا طوق گلے میں پہنا توزندگی اورمحتاط ہوگئی.

کون سا لفظ اورفقرہ دبانا ہےکون سے فقرےلفظ کونمایاں کرنا ہے، ایسے بہت سے آداب اورشکنجے زندگی میں آتے گئے جنہوں نے میرے اظہار کوبالواسطہ اصناف کی طرف موڑدیا، یعنی استعارات کی شاعریڈرامہ وغیرہ. شاعری اورڈرامے کا ایک اچھا پہلویہ ہے کہ آدمی اس میں مختلف کرداروںاستعاروں کے ذریعے اپنی نفرتغصے کا اظہار بھی کرلیتا ہے اوراس کا جرم قابل دست اندازی پولیس نہیں ہوتا. میں نے انیس سوبہترسے لے کرانیس سونوے تک اسی انداز کی شاعری کی اورانیس سونوے سے ڈرامہ لکھنا شروع کیا. یوں میری ذاتی تسکین بھی ہوجاتی رہی اورجتنی چاہتا اتنی دل بھرکربھڑاس بھی نکل جاتی. 11 ستمبر2001ء ایک ایسا موڑ ہےجس نے اس دنیا کے جغرافیائی نقشے کوہی نہیں بلکہ تہذیبی، ثقافتی، معاشرتی اورمذبی نقشے کوبھی یکسرتبدیل کرکے رکھ دیا. اس سانحے کے بعد پوری دنیا جس طرح تماشا دیکھنے کوئٹہ میں جمع ہوئی تھی، وہ میرے لئے ناقابلِ یقین اورحیرت انگیزتجربہ تھا.

کوئٹہ کے سرینا ہوٹل میں دنیا بھرکے مبصرین اورمیڈیا کے نمائندے اس کے ہال اوربرآمدوں تک میں بسترلگا کررہائش پذیرتھے. وہ یہ سب دیکھنے آئے تھے کہ امریکہ کی واحد عالمی طاقت ملا محمد عمرکی گستاخ حکومت کے ساتھ کیا سلوک کرتی ہے. اگلے تین ماہ پاکستانی تاریخ کے اہم ترین مہینے تھے. میں نے افغانستان کے پڑوس یعنی کوئٹہ میں رہتے ہوئے وہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے. پاکستان کے وہ تین ہوائی اڈے جہاں سے ستاون ہزارمرتبہ امریکی جہاز اڑے اورانہوں نے افغانوں‌ پربمباری، وہ تینوں ہوائی اڈے بلوچستان میں واقع تھے. میرے لیے یہ تین ماہ اذیت کے تھے. ذہن پربیتنے والی اس ساری کیفیت کوبیان کرنے کے لئے جس سچ کی ضرورت تھی شاعری اورڈرامہ نگاری اس کا حق ادا نہیں کرسکتی تھی اورویسی براہ راست گفتگوصرف کالم کے ذریعے ہوسکتی تھی. ایک ایسی گفتگوجو آپ کوکٹہرے میں لا کھڑا کرسکتی ہو. میری سول سروس کی نوکری کے ابھی سترہ سال باقی تھے.

یہ سترہ سال اعلیٰ ترین پوسٹنگزسے لطف اندوزہونے کے سال ہوتے ہیں. فیصلے کی گھڑی تھی، تین ماہ کی ذہنی اذیت اورکرب نے مجھے جنوری 2002ء میں کالم لکھنے پرمجبورکردیا کہ اگرمیں کالم نہ لکھتا تومیرے اندرکا جنوں مجھے غارت کردیتا –اس کالم نگاری میں بہت سے ٹھکانے بدلتے رہے. کبھی اخبارمیری تحریرکا متحمل نہ پاتا اورکبھی مدیران میرے نظریے کوخطرناک سمجھتے. پاکستان کے تین بڑے اخبارات میں لکھنے کے بعد جب 92 کے اعداد میری آنکھوں میں چمکے تویوں لگا کہ پچپن سال پہلے زنجیرکی جوکڑی اپنا دوسرا سرا ڈھونڈھ رہی تھی وہ اسے میسرآگیا ہو. مجھے یقین تھا کہ یہاں‌ میرے لئے کوئی نظریاتی اختلاف کی دیوارکھڑی نہیں ہوگی اورنہ ہی ایسا مرحلہ آئے گا کہ اخبارمیرے خیالات کا متحمل نہ ہوسکے اورپھرایسا ہی ہوا…..یوں‌ لگتا ہے کہ اسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ مہریا مونوگرام جوچھ سال کی عمرمیں میرے والد نے مجھ سے اس خط میں لکھوایا تھا وہ اس اخبارکی پیشانی پرثبت ہے اورمیں اس کی امان میں ہوں-

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں