449

ریاست پاکستان کے لیے ایک نیا اور خطرناک چیلنج – سلیم صافی

یہ لسانی نہیں بلکہ تزویراتی (Strategic)معاملہ ہے۔ پختونوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ پہلے سوویت یونین اور امریکہ کی جنگ میں فرنٹ لائن ان کی سرزمین بن گئی اور اب وار آن ٹیرر بھی ان کے گھر میں برپا ہوئی۔ شہر کے لوگ ظالم ضرور ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہم پختونوں کو لڑائی مول لینے اور مرنے کا شوق بھی کچھ کم نہیں۔ جنگ ضرور دوسروں کی تھی لیکن پختونوں نے بھی سیاسی اور ذاتی اغراض کے لئے اپنا کاندھا پیش کرنے میں کبھی کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ جنرل اختر عبدالرحمان اورجنرل حمید گل نے اگر انہیں لڑایا تو پختون گلبدین حکمت یار اور پختون ڈاکٹر نجیب اللہ نے بھی کبھی ایک دوسرے کی صفوں کے پختونوں کو مارنے سے انکار نہیں کیا۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ سرخ ڈولی لانے کی آرزو میں لمبے عرصے تک کابل میں ڈیرے ڈالنے والے اجمل خٹک بھی پختون تھے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر امریکہ کی سرپرستی میں ان کا مقابلہ کرنے والے قاضی حسین احمد بھی پختون تھے۔ حامد کرزئی بھی پختون ہیں اور ملا محمد عمر بھی پختون تھے۔ ڈاکٹر اشرف غنی بھی پختون ہیں اور ملا ہیبت اللہ بھی پختون ہیں۔ طالبان کے نام پر سیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمان بھی پختون ہیں اور دفاع افغانستان کونسل بنانے والے مولانا سمیع الحق بھی پختون ہیں۔ بیت اللہ محسود بھی پختون تھے اور ان کے خودکش حملوں کا نشانہ بننے والے اے این پی کے رہنما بھی پختون تھے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک قبائلی پختون لیفٹیننٹ جنرل (ر) علی محمد جان اورکزئی پشاور کے کور کمانڈر بنے اور ان کی قیادت میں فوج نہ صرف پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں میں داخل ہوئی بلکہ انہوں نے ہی فوج کو سول کاموں میں دخیل کیا۔ جنرل پرویز مشرف افغانستان کی جنگ کو پاکستان میں لا کر ظلم عظیم کے مرتکب ہوئے تو اس جنگ میں شرکت کے لئے جنوبی وزیرستان سے پختونوں کا پہلا قافلہ افغانستان لے جانے والے مولانا معراج الدین قریشی بھی پختون تھے۔ اسی طرح پختون نوجوانوں کے ذہنوں میں ’’لروبریوافغان‘‘ کے نام پر پنجابیوں کے خلاف نفرت پھیلانے والے بھی پختون قوم پرست لیڈر ہیں اور آج پختونوں کے سب سے بڑے سیاسی مخالف پنجابی قوم پرست میاں نوازشریف کے دست راست اور خادم اعلیٰ بننے والے محمود خان اچکزئی بھی پختون ہیں۔ اسی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے لیے تزویراتی لیبارٹری بنانے اور حکمران طبقات نے وہاں سے اپنی تجوریاں بھرنے کے لئے اگر قبائلی علاقوں کو ایف سی آر کے تحت سرزمین بے آئین بنائے رکھا تو اس سازش میں ان کے ساتھ جو مراعات یافتہ ملکانان اور فاٹا کے ممبران سینیٹ و قومی اسمبلی شامل رہے، وہ بھی پختون ہیں۔

یقیناََ پختون سرزمین پر گزشتہ سالوں میں جو مظالم ڈھائے گئے، وہ ناقابل بیان ہیں لیکن اپنی قوم کے ساتھ روا رکھے گئے اس ظلم میں خود پختون قیادت بھی شریک رہی۔ مولانا صوفی محمد کے ذریعے ملا فضل اللہ کے ساتھ معاہدے پر کسی اور نے نہیں بلکہ اے این پی کے وزراء نے دستخط کیے۔ پھرجب سوات، باجوڑ اور وزیرستان پر بمباریاں ہورہی تھیں، اور لاکھوں پختون دربدر تھے تو محترم محمود خان اچکزئی اس پورے عرصے میں خیبرپختونخوا یا پھر قبائلی علاقہ جات کی طرف کبھی کسی فاتحہ خوانی کے لئے بھی نہیں آئے۔ تب وہ جنرل عالم خٹک کے ساتھ خفیہ ملاقاتوں اور اگلے انتخابات کے لیے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل میں مصروف تھے۔ میاں نوازشریف کا دور حکومت تاریخ میں پختونوں کے لئے تاریک ترین دور کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ جنرل راحیل شریف کے دور کمانڈ میں تو قبائلی علاقوں میں انسانی حقوق کی پامالی کی حد کر دی گئی۔ مقبوضہ کشمیر میں آج تک ظالم بھارتی افواج نے فضائیہ استعمال نہیں کی، لیکن قبائلی علاقوں میں طیاروں سے اتنی بمباری کی گئی کہ بارود کا ذخیرہ کم پڑ گیا۔ میاں نوازشریف نے قبائلی علاقوں کو مکمل طور پر فوج کے حوالے کیا اور خود میٹروز اور موٹرویز بناتے رہے۔ انہوں نے ایک عمررسیدہ شخص جو آج تک قبائلی علاقوں کے حدود اربعہ کو نہیں جانتا کو صدر مملکت (جو فاٹا کا چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے) بنایا لیکن کسی پختون قوم پرست نے آواز نہیں اٹھائی۔ انہوں نے پہلی مرتبہ ایسی کابینہ بنائی جس میں کوئی قبائلی ممبر شامل نہیں تھا لیکن پھر بھی کسی پختون قوم پرست نے احتجاج نہیں کیا۔ وزیرستان کے آئی ڈی پیز کی بحالی کے عمل کا نگران کسی پختون کو بنانے کے بجائے انہو ں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جنرل عبدالقادر بلوچ کو بنایا لیکن پھر ان پر فدا ہونے والے پختون قوم پرست نے احتجاج نہیں کیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ آج بھی وزیرستان اور اورکزئی کے لاکھوں آئی ڈی پیز دربدر ہیں۔ یہ سب کچھ نوازشریف کی حکومت میں ہوتا رہا لیکن ذرا بتایا جائے کہ اس پورے عرصے میں ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے پختون محمود خان اچکزئی نے کوئی ذکر کیا۔

کچھ عرصہ قبل جب پختون تحفظ موومنٹ کے علی وزیر کی مارکیٹ کو مسمار کر دیا گیا تو میں نے ٹی وی پروگرام میں بھی احتجاج کیا اور کالم میں بھی لیکن پختونوں کے کسی ٹھیکیدار یا کسی پختون ایم این اے یا سینیٹر کو اس پر قومی اسمبلی میں احتجاج کی توفیق نہیں ہوئی۔ سی پیک کے مغربی روٹ سے قبائلی علاقوں کی حالت بدل سکتی تھی لیکن میاں نوازشریف نے پختونوں کے ساتھ ظلم روا رکھ کراسے لاہور کی طرف موڑ دیا اور افسوس کہ ان کی صفائیاں پختون اچکزئی صاحب اور بلوچ ڈاکٹر مالک صاحب دیتے رہے۔اسی طرح اگر قبائلی علاقے وقت پر خیبر پختونخوا میں ضم ہوجاتے، وہاں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار پھیل جاتا، قومی اسمبلی اور سینیٹ وہاں کے لئے قانون سازی کے قابل ہوچکے ہوتے تو نقیب اللہ محسود کی طرح قبائلی علاقوں کے مسنگ پرسنز اور بے گناہ مقتولین کا بھی میڈیا اور پارلیمنٹ میں تذکرہ ہوتا اور سپریم کورٹ نوٹس لیتی۔ لیکن اس عمل میں تاخیر میاں نوازشریف نے کی اور کسی اور کے کہنے پر نہیں بلکہ پختون محمود خان اچکزئی، پختون مولانا فضل الرحمان اور پختون قبائلی ایم این ایز اور سینیٹرز کے ایما پر۔ کچھ لوگوں کو اب یاد آیا ہوگا لیکن میرے کالم گواہ ہیں کہ قبائلی علاقوں میں مسنگ پرسنز کا معاملہ ہو، گھروں کی مسماری کا، جہازوں سے بمباری کا یا پھر لوگوں کی گھروں سے بے دخلی کا، ہر معاملہ پر جان اور عزت ہتھیلی پر رکھ کر میں 2001ء سے لکھ اور بول رہا تھا۔ تاہم میں شعوری طور پر اس نتیجے تک پہنچا کہ جب تک قبائلی علاقوں کو پختونخوا کے ساتھ مدغم نہیں کیا جاتا اور جب تک وہاں کے پختون باقی پاکستانیوں کی طرح پاکستانی اور اس طرف کے افغانی باقی افغانیوں کی طرح افغانی نہیں بن جاتے، تب تک کوئی مسئلہ دائمی طور پر حل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے شعوری طور پر میں نے ساری توجہ قبائلی علاقوں کے پختونخوا کے ساتھ انضمام پر مرکوز کی۔ یہ میری صحافتی زندگی کا پہلا ایشو ہے جس کے لئے میں اپنے صحافتی دائرے سے نکلا اور فاٹا یوتھ جرگہ تشکیل دے کر اس کی سرپرستی قبول کی۔ لیکن افسوس کہ نہ تو فوجی حلقوں نے ہماری فریاد کو مناسب توجہ دی اور نہ سیاسی قیادت نے۔ پہلے میاں نوازشریف ، اچکزئی صاحب اور مولانا صاحب رکاوٹ بنے اور پھر سینیٹ میں آکر پیپلز پارٹی نے سازش کرکے اسے تعطل کا شکار بنایا۔ پی ٹی آئی زبانی حمایت تو کرتی رہی لیکن اس کی قیادت اور پختون اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کا کردار بھی انتہائی افسوسناک رہا۔

تب قبائلی نوجوان فاٹا یوتھ جرگہ کے فورم سے انہی مسائل کا حل چاہتے تھے جن کو آج پختون تحفظ موومنٹ نے اٹھایا ہے، لیکن ان کا لہجہ غصے والا نہیں بلکہ التجا والا تھا اور وہ آزادی کا نعرہ لگانے کے بجائے یہ درخواست کررہے تھے کہ انہیں باقی پاکستانیوں کی طرح پاکستانی بنا دو۔ تاہم اب جو تحریک اٹھی ہے اس میں غصہ ہے، بے اعتدالی ہے اور نعرے اس قدر باغیانہ ہیں کہ آزادی تک کے نعرے لگ رہے ہیں۔ جواب میں ریاست بھی غصے میں نظر آ رہی ہے۔ وہ بھی لالچ، دباؤ اور دھمکی کے روایتی حربے استعمال کررہی ہے۔یکدم یہ دھماکہ اس لیے ہوا کیونکہ جنرل راحیل شریف کے دور میں قبائلی علاقوں کے حوالے سے میڈیا کی مکمل زبان بندی کی گئی اور لاوا جمع ہوتے ہوتے اچانک پھٹ پڑا۔ اس کے برعکس جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میں جب سوات آپریشن ہورہا تھا تو میڈیا آزادی کے ساتھ سب کچھ رپورٹ کر رہا تھا۔ تب میڈیا سے حسب روایت بعض غلطیاں بھی سرزد ہوئیں لیکن فائدہ یہ ہوا کہ جو غلطیاں ہو رہی تھیں، ان کی وقت کے ساتھ ساتھ اصلاح بھی ہوتی رہی۔ پورا پاکستان اس آپریشن میں ایسا انوالو ہوگیا کہ کراچی سے لے کر لاہور تک پاکستانی آئی ڈی پیز کی مدد کے لیے آئے لیکن جنرل راحیل کے دور کے آپریشنوں میں میڈیا پر قدغنوں کی وجہ سے ایسا کچھ نہیں ہوسکا۔ عسکری اداروں کے فرمائشی پروگراموں کے ذریعے باقی پاکستان کو تو قبائلی علاقوں کے حوالے سے سبز باغ دکھائے گئے، لیکن مقامی نوجوانوں میں غصے کی لہر کم ہونے کی بجائے بڑھتی گئی۔ بدقسمتی سے اب بھی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے تعلقات عامہ کے ادارے کی طرف سے یہی کچھ کیا جا رہا ہے۔ ایک طرف الیکٹرانک چینلز کو وہاں کے معاملات اور پختون تحفظ موومنٹ سے متعلق مکمل بلیک آؤٹ پر مجبور کیا جارہا ہے اور دوسری طرف سوشل میڈیا اور وائس آف امریکہ جیسے اداروں پر مبالغے کے ساتھ سب کچھ رپورٹ ہو رہا ہے۔ ایک طرف کچھ لوگ اور کچھ قوتیں پختون تحفظ موومنٹ کو غلط راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں تو دوسری طرف مقتدر قوتوں کی طرف سے روایتی حربے مزید بھونڈے انداز میں استعمال ہو رہے ہیں۔

اگر کوئی پاکستان کی خیر چاہتا ہے تو خیر اسی میں ہے کہ وہاں کے باسیوں کے جینوئن مسائل کو فوری طور پر حل کرے اور ہنگامی بنیادوں پر فاٹا کے پختونخوا کے ساتھ انضمام کے لئے ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرے ۔ سوال یہ ہے کہ فاٹا کے ادغام کے لئے مقتدر حلقے وہ پھرتی کیوں نہیں دکھاتے جو سینیٹ انتخابات اور چیئرمین سینیٹ کے معاملے میں دکھائی گئی۔ اسی طرح اگر کوئی پختونوں اور قبائلیوں کی خیر چاہتا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ قبائلی علاقوں تک آئین و قانون کے پھیلائو اور پختونخوا کے ساتھ اس کے ادغام کے لئے دن رات ایک کرے ۔ اگر مقتدر حلقے آئندہ انتخابات سے قبل یہ کام نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مخلص نہیں اور اگر کوئی پختون فاٹا کے پختونخوا کے ساتھ انضمام کے لئے سردھڑ کی بازی نہیں لگاتا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ قبائلی عوام اور پختونوں کے ساتھ مخلص نہیں ۔پختون تحفظ موومنٹ مطالبہ کررہا ہے اور بالکل جائز مطالبہ ہے کہ فاٹا کے مسنگ پرسنز کو عدالتوں میں لایا جائے اور اس کے لئے عدالتی کمیشن بنا یا جائے لیکن سردست تو وہ علاقے سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار سے ہی باہر ہیں تو پھر کہاں کی عدالتیں اور کیسا عدالتی کمیشن۔ نقیب اللہ محسود کا معاملہ اس لئے عدالت تک پہنچا کیونکہ وہ قبائلی علاقے نہیں بلکہ کراچی میں قتل ہوئے تھے۔ سب مسائل کے حل کی پہلی سیڑھی انضمام ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں