217

جسٹس میاں ثاقب نثار اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے مابین تلخ جملوں کا تبادلہ

لاہور : سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ریلوے کو 60 ارب روپے کے خسارے سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اور وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے مابین تلخ اور دلچسپ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ سماعت کے دوران خواجہ سعد رفیق نے کہا میں یہاں سیاسی تقریر کرنے نہیں بلکہ کارکردگی دکھانے آیا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو یہاں سیاسی تقریر کرنے کی اجازت بھی کوئی نہیں دے گا۔ چند دن قبل آپ جہاں گئے تھے کیا آپ جانتے ہیں کہ وہاں آپ کی باڈی لینگوئج کیا تھی؟ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ میری رشتہ داری اور شہرداری ہے ، میں وہاں چائے پینے گیا تھا۔چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے پتہ ہے آپ کون سی چائے پینے گئے تھے اور کیا سفارش کروانے گئے تھے۔

میں جہاد کر رہا ہوں مجھے کچھ نظر نہیں آ رہا۔ جتنے مرضی بڑے چہرے لے آئیں، بات صرف میرٹ کی سنوں گا۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ اپنے رشتہ داروں کے پاس چائے پینے جانا میرا حق ہے۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چُپ ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ سب کو پتہ چل جائے گا کہ آپ کہاں گئے تھے۔ سیاسی باتیں چھوڑیں اور ریلوے کی کارکردگی پر آئیں ورنہ آپ کو ڈائریکٹ توہین عدالت کا نوٹس جاری کروں گا۔ چیف جسٹس کی بات سن پر خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مجھے آپ کے اس کمنٹ پر افسوس ہوا ہے۔ کوئی بات نہیں میں پہلے بھی 12 مرتبہ جیل کاٹ چکا ہوں۔ آپ ہمارے چیف جسٹس ہیں آپ کو مجھے شنوائی کا موقع دینا چاہئیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں