855

سرکاری ملازمین کے لیے تہلکہ خیز خوشخبری ۔۔۔کس چیز کے الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ کیا جانیوالا ہے ؟ خبر آ گئی

اسلا م آباد(ویب ڈیسک)وزارت ہائوسنگ نے 85فیصدتک اضافے کی سمری بھجوائی ،وزیراعظم نے 50فیصدکی منظوری دی،تجویزکوحتمی شکل دیدی گئی بنیادی تنخواہوں کے سکیل موجودہ شرح پربرقراررکھنے کافیصلہ،وزارت خزانہ کا10فیصدتک ایڈہاک ریلیف دینے کی تجویزپرغور۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نے آئندہ بجٹ میں گریڈ 1 تا 22 کے وفاقی افسران و ملازمین کے ہائوس الائونس او ر ہائوس ہائر نگ الائونس میں 50فیصد اضافہ کو حتمی شکل د ے دی ہے ۔وزارت خزانہ نے گریڈ 1 تا 22 کے افسران و ملازمین کے موجودہ بنیادی تنخواہ سکیل کے مطابق 50فیصد اضافہ کرنے کی منظوری دی ہے ۔ وزارت خزانہ نے آئندہ بجٹ میں بنیادی تنخواہوں کے سکیل کو موجودہ شرح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزارت خزانہ کی جانب سے موجودہ بنیادی تنخواہوں پر 10فیصد تک ایڈہاک ریلیف دینے کی تجویز زیر غور ہے ۔ وزارت خزانہ نے وزارت ہائوسنگ و تعمیر کی جانب سے وفاقی ملازمین کے ہائوس ہائر نگ الائونس میں 85فیصد تک اضافہ کرنے کی سمری وزیراعظم کوبھجوا ئی تھی .

وزیراعظم نے وزارت خزانہ او روزارت ہائوسنگ و تعمیرات کی سمری میں ترمیم کرتے ہوئے ہائوس الائونس اور ہائوس ہائرنگ الائونس میں 50فیصد اضافہ کی منظوری دی ہے ۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ نے 2018-2019کے بجٹ میں1تا 22سکیل کے وفاقی افسران و ملازمین کے بنیادی تنخواہ کے مطابق 50فیصد ہائوس الائونس و ہائوس ہائرنگ الائونس میں اضافہ کیلئے بجٹ تجویز کو حتمی بنا دیا ہے ۔ وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کی تجویز پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں ہوسکا ۔وزارت خزانہ نے ملکی معاشی صورتحال کے پیش نظر وفاقی افسران و ملازمین کے بنیادی تنخواہ سکیل پر نظرثانی نہ کرنے اور موجودہ بنیادی تنخواہ سکیل کو برقرار رکھنے کافیصلہ کیا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی طرف سےاقتصادی شعبے کے لیے آج پیکج کااعلان متوقع ہے۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت اکنامک ایڈوائزری کونسل کا اجلاس جاری ہے جس میں اقتصادی شعبے کے لئے پیکیج پر تفصیلی غور کیا جارہا ہے۔

ذرائع کے اقتصادی پیکیج کےخدوخال اکنامک ایڈوائزری کونسل کےاجلاس میں طے ہوں گے اور وزیراعظم کےاعلان کردہ پیکیج کوصدارتی آرڈیننس کے ذریعے فوری طورپرنافذ کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہےکہ پیکیج کے تحت بیرون ملک سے 30 جون 2018 تک 2 فیصد ٹیکس اداکرکے سرمایہ واپس لایا جاسکتا ہے اور سرمایہ واپس لانے والوں سے باز پرس نہیں ہوگی جب کہ اندرون ملک جائیداد رکھنے والے بھی اس پیکج سے مستفید ہوسکیں گے۔ذرائع کے مطابق پیکیج کے تحت بیرون ملک سرمایہ ڈکلیئر کرنے والوں سے 5 فیصد ٹیکس وصول کیا جائے گا، بیرون ملک سرمائے پر5 فیصد ٹیکس اداکرنے والوں کا سرمایہ قانونی شمار کیا جائے گا، این ٹی این نہ رکھنے والے غیرملکی کرنسی اکاؤنٹ کھولنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ باہر سے آنے والی ترسیلات پر ٹیکس لگانے کی اسکیم بھی زیر غور ہے تاہم ٹیکس کی شرح کا فیصلہ ایڈوائزری کونسل آج کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں