367

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک غریب مچھیرے کی زندگی عجیب قسم کی بیماری میں مبتلا !آدھا درخت آدھا انسان

انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے ایک غریب مچھیرے کی زندگی عجیب قسم کی بیماری کی وجہ سے مشکل گزر رہی تھی جس کے باعث نہ صرف اسے کھانے پینے میں مشکلات کا سامنا تھا بلکہ اسے آدھا انسان اور آدھے درخت کے نام سے یاد کیا جارہا تھا اور اس کے اپنے گاؤں میں لوگ اسے عجیب و غریب نظروں سے دیکھتے ہیں کچھ لوگ اسے بد دعا کی بدولت قرار دیتے ہیں جبکہ بعض اسے بیماری قرار دیتے ہیں –
40 سالہ دیدی کوسورا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے کم عمری میں اپنے گھٹنے پر لگا تل کاٹا تھا جس کے بعد اس کے جسم خصوصا ہاتھ اور پائوں عجیب و غریب قسم کی بیماری کا شکار ہوگئے اور ہاتھ اور پائوں درخت کی طرح جڑیں پیدا کرنے اور پھیلنے لگے یہ جڑیں اس کے چہرے اور جسم کے مختلف حصوں پر بھی ہیں تاہم سب سے زیادہ ہاتھ اور پاؤں اس سے متاثر ہیں جس کے باعث اس کی زندگی متاثر ہو کر رہ گئی ہیں اور ایک جگہ بیٹھ گیا اور اس بیماری کے باعث نہ صرف اس کا روزگار ختم ہوگیا بلکہ اس کی اپنی بیوی بھی اسکا ساتھ چھوڑ گئی _

نامساعد حالات نے دو بچوں کے والد کو علاقے میں لوگوں کی تفریح کیلئے بنائے جانیوالے تھیٹر شو میں اپنے آپ کو دکھانا شروع کردیا جس سے اس کی زندگی کا کاروبار چل نکلا اور مختلف علاقوں سے لوگ اس عجیب و غریب شخصیت کو دیکھنے کیلئے ٹکٹ خریدنے آتے تھے-
کچھ عرصہ قبل ایک چینل پر اس کے بارے میں ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں اس کی عجیب و غریب شخصیت اور زندگی کا احاطہ کیا گیا رپورٹ کی دنیا بھر میں آن ائیر جانے کے بعد امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر گیسپری کو اس کی طرف متوجہ کیا جس نے جکارتہ کے نواح میں رہائش پذیر دیدی کا دورہ کیا ابتداء میں ڈاکٹر گیسپری کا خیال تھا کہ دیدی ایڈز کے جراثیم کا شکار ہے
تاہم مختلف ٹیسٹوں کے بعد اس کا خیال غلط ثابت ہوااور اس کا کہنا ہے کہ اس کی امیون سسٹم میں کچھ گڑ بڑ ہوگئی ہیں جس کے باعث اس کے جسم کے خلیے عجیب طرح سے پھیل رہے ہیں اس کا کہنا ہے کہ اس عجیب و غریب قسم کی بیماری کے علاوہ اسے کوئی اور تکلیف نہیں اور وہ نارمل زندگی گزار رہا ہے-

ڈاکٹر گیسپری نے مزید بتایا کہ اس طرح کے کیسز ایک ملین میں ایک ہوتے ہیں اور اس بیماری کے خاتمے کیلئے اب میں اسے روزانہ کی بنیاد پر وٹامن اے کی انجکشن لگاؤں گا جس کے باعث جسم پر تل بڑھنے کی رفتار میں کمی آئیگی اور اگلے چھ ماہ سے ایک سال کے دوران اس کی زندگی نارمل ہو جائیگی کیونکہ تل کم سے کم ہو جائیں گے ڈاکٹر گیسپری نے مزید بتایا کہ بڑے بڑے تل سرجری کے ذریعے ختم کئے جائیں گے اس نے مزید بتایا کہ اس نے اپنے کیرئیر میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا
سرجری کے بعد اس کی حالت کچھ بہتر ہوئی .
یہ تمام حقیقت دیکھنے کےلئے ویڈیوز دیکھیئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں