89

ایک باعصمت لڑکی اور کفل کا واقعہ

حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ ﷺ سے کئی بار یہ سنا آپﷺ فرماتے کہ بنی اسرائیل میں کفل نامی ایک شخص تھا جو ہمیشہ رات دن برائی میں پھنسا رہتا تھا. کوئی سیاہ کاری ایسی نہ تھی جو اس سے چھوٹی ہو نفس کی کوئی ایسی خواہش نہ تھی جو اس نے پوری نہ کی ہو.ایک مرتبہ اس نے ایک عورت کو ساٹھ(60) دینار دے کر بدکاری کیلئے آمادہ کیا . جب وہ تنہائی میں اپنے برے کام کے ارادے پر مستعد ہوتا ہے تو وہ نیک بخت بید لرزاں کی طرح تھرانے لگتی ہے . اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی جھڑیاں لگ جاتی ہیں. چہرے کا رنگ فق پڑجاتا ہے، رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، کلیجہ بانسوں اچھلنے لگتا ہے، کفل حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ اس ڈر ، خوف ، دہشت اور وحشت کی کیا وجہ ہے؟ پاک باطن ، شریف النفس ، باعصمت لڑکی اپنی لڑکھڑاتی زبان سے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیتی ہے . مجھے اﷲ کے عذابوں کا خیال ہے اس زبوں کام کو ہمارے پیدا کرنے والے اﷲ نے حرام کردیا ہے. یہ فعل بد ہمارے مالک ذوالجلال کے سامنے ذلیل و رسول کرے گا.

اس نیک نہاد اور پاک باطن اور عصمت بآب خاتون کی پر اثر اور بے لوث مخلصانہ سچی تقریر اور خیر صوابی نے کفل پر اپنا گہرا اثر ڈالا اور چونکہ جو بات سچی ہوتی ہے دل ہی میں اپنا گھر کرتی ہے. ندامت اور شرمندگی ہر طرف سے گھیر لیتی ہے اور عذاب الہٰی کی خوفناک شکلیں ایک دم آنکھوں کے سامنے آکر ہر طرف سے حتیٰ کہ در و دیوار سے دکھائی دینے لگتی ہیں . جسم بے جان ہوجاتا ہے ، قدم بھاری ہوجاتے ہیں، دل تھرا جاتے ہیں . سو ایسا ہی کفل کو معلوم ہوا. وہ اپنے انجام پرغور کرکے اپنی سیاہ کاریاں یاد کرکے رو دیا اور کہنے لگا . پھر گریہ زاری کے جناب باری تعالیٰ توبہ واستغفار کرتا ہے. اور رو رو کر اعمال کی سیاہی دھوتا ہے. دامن امید پھیلا کر دست دعا دراز کرتا ہے کہ یا الہٰ العالمین میری سرکشی سے درگزر فرما. مجھے اپنی دامن عفو می میں چھپالے . میرے گناہوں سے چشم پوشی کر مجھے اپنے عذابوں سے آزاد کر . حضورﷺ فرماتے ہیں کہ اسی رات اس کا انتقال ہوگیا. صبح کو لوگ دیکھتے ہیں اس کے دروازے پر قدرتاً لکھا ہوا ہے. ان اﷲ قد غفر الکفل . یعنی اﷲ تعالیٰ نے کفل کے گناہ معاف کردئیے. (ترمذی) ( ”صحیح اسلامی واقعات ”، صفحہ نمبر 106-103

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں