1,269

اویس قرنی کو جنت کے دروازہ پر روک لیا جائے گا کیونکہ

حضوراکرم (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا کہ جب لوگ جنت میں جائے گے تو اویس قرنی کو دروازے پرروک لیاجائے گا۔حضرت اویس قرنی کون ہیں ۔ ان کا اویس نام ہے جو کہ عامرکے بیٹے ہیں۔ قبیلہ قرن سے ان کا تعلق تھا ، جس کی وجہ سے ان کو قرنی کہا جاتا تھا اپنی ماں کی خدمت کی وجہ سے آپ ﷺ کے در پر حاضری نہیں دے سکے ۔

ایک دفعہ اپنی والدہ سے اجازت لی تاکہ آپﷺ کی خدمت اقدس میں حاضری دے سکے ۔ اجازت ملی لیکن ساتھ میں ماں نے کہا کہ جلدی آجانا ۔ حضرت اویس قرنی جب مدینہ پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ آپﷺ ایک غزوہ کے لئے تشریف لے کر گئے ہیں ۔ غمگین ہوئے ۔

ایک طرف دیدار کو شوقق اور دوسری طرف ماں کا حکم کہ گھر جلدی آنا ۔ بالآخر گھر چل دئے ۔ جب آُ ﷺ واپس تشریف لائے تو وہاں کے اصحاب سے پوچھا کہ کوئی آ یا تھا مجھ سے ملنے ۔ تو لوگوں نے کہا کہ اویس آئےتھے لیکن پھر چلے گئے کیونکہ ان کی ماں نے ان سے کہا تھا کہ گھر جلدی آنا وہاں بیٹھے نہ رہنا اور نہ تاخیر کرنا ۔

آپ کو یہی بات سن کر بہت خوشی ہوئی ۔ ایک دفعہ حضور(صلی ﷲ علیہ وسلم) نے حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اورحضرت علی (رضی ﷲ عنہ) سے ککہ تمہارے دور میں ایک شخص ہوگا جس کانام ہوگا

اویس بن عامر درمیانہ قد رنگ کالا جسم پر ایک سفید داغ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے ان کاحلیہ ایسے بیان کیاجسے سامنے دیکھ رہے ہو وہ آئے گاجب وہ آئے تو تم دونوں نے اس سے دعا کرانی ہے۔حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) اور حضرت علی (رضی ﷲ عنہ)کواویس قرنی کی دعاکی ضرورت نہیں تھی۔یہ امت کے لئے پیغام تھا کہ دیکھوں ماں کی عزت کرنے میں اللہ کی کتنی بڑی رضا ہے ۔

حضرت عمر (رضی ﷲ عنہ) حیران ہوگئے اور سوچنے لگے کہ حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) کیاکہہ رہے ہیں کہ ہم اویس سے دعا کروائیں تو حضور (صلی ﷲ علیہ وسلم) نے فرمایا عمر،علی اویس نے ماں کی خدمت اس طرح کی ہے جب وہ ہاتھ اٹھاتاہے توﷲ اس کی دعا کو خالی نہیں جانے دیتا۔حضرت عمر(رضی ﷲ عنہ) دس سال خلیفہ رہے دس سال حج کیالیکن انہیں اویس نہ ملے ایک دن سارے حاجیوں کو اکٹھا کر لیا

اور کہا کہ یمن کے حاجیوں میں سے جو قبیلہ قرن والے ہیں وہ کھڑے ہو جائے ۔ آخر کاراس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ڈھونڈ نکالا آپ نے پوچھا کیا تم قرنی ہو نے کہا تو اس شخص نے کہاکہ ہاں میں قرنی ہوں تو حضرت عمر نے کہا کہ اویس کو جانتے ہو تو اس شخص نے کہاکہ ہاں جانتا ہوں میرے بھائی کابیٹاہے میراسگا بھتیجاہےاس کادماغ ٹھیک نہیں آپ کیوں پوچھ رہے ہیں توحضرت عمر نے کہاکہ مجھے تو تیرا دماغ صحیح نہیں لگ رہاآ پ نے پوچھا کدھر ہےتواس نے کہاکہ آیا ہوا ہے پوچھا کہاں گیا ہے تو اس نے کہا کہ وہ عرفات گیاہے اونٹ چرانے،آپ نے حضرت علی کو ساتھ لیا اور عرفات کی دوڑ لگادی جب وہاں پہنچے تو دیکھاکہ اویس قرنی درخت کے نیچے نماز پڑھ رہے ہیں اور اونٹ چاروں طرف چررہے ہیں یہ آکربیٹھ گئے اور اویس قرنی کی نماز ختم ہونے کاانتظار کرنے لگے

جب حضرت اویس نے محسوس کیاکہ دو آدمی آگئے تو انہوں نے نماز مختصرکردی ۔ سلام پھیرا توحضرت عمر نے پوچھا کون ہو بھائی توکہاجی میں مزدور ہوں اسے خبرنہیں کہ یہ کون ہیں تو حضرت عمر نے کہاکہ تیرا نام کیا ہےتو اویس قرنی نے کہ اکہ میرانام ﷲ کابندہ تو حضرت عمر نے کہا کہ سارے ہی ﷲ کے بندے ہیں تیری ماں نے تیرا نام کیارکھا ہےتو حضرت اویس نے کہاکہ آپ کون ہیں مان اکا یہ پوچھنا تھا کہ حضرت علی نے کہاکہ اویس یہ امیرالمومنین عمربن خطاب ہیں اور میں ہوں علی بن ابی طالب حضرت اویس کا یہ سننا تھا کہ وہ کانپنے لگےکہاکہ جی میں معافی چاہتا ہوں میں تو آپ کو پہچانتا ہی نہیں تھا میں تو پہلی دفعہ آیا ہوں تو حضرت عمر نے کہاکہ تو ہی اویس ہے تو انہوں نے کہا کہ ہاں میں ہی اویس ہوں حضرت عمر نے کہاکہ ہاتھ اٹھا اور ہمارے لیے دعا کر وہ رونے لگے اور کہا

کہ میں دعا کروں آپ لوگ سردار اور میں نوکرآپ کامیں آپ لوگوں کے لیے دعا کروں تو حضرت عمر نے کہاکہ ہاں ﷲ کے نبی نے فرمایاتھا۔عمر اور علی جیسی ہستیوں کے لیے حضرت اویس کے ہاتھ اٹھوائے گئے کس لیے اس کے پیچھے جہاد نہیں،تبلیغ نہیں،تصوف نہیں اس کے پیچھے ماں کی خدمت ہے۔جب لوگ جنت میں جارہے ہوں گے تو حضرت اویس قرنی بھی چلیں گے اس وقت ﷲ تعالیٰ فرمائیں گے کے باقیوں کو جانے دو اور اویس کو روک لو۔ اس وقت حضرت اویس قرنی پریشان ہوجائیں گےاورکہیں گے کہ اے ﷲ آپ نے مجھے دروازے پرکیوں روک لیاتو مجھ سےاس وقت ﷲ تعالی ٰ فرمائیں گے کہ پیچھے دیکھوجب پیچھے دیکھیں گے تو پیچھے کروڑوں اربوں کے تعدادمیں جہنمی کھڑے ہوں گےتواس وقت ﷲ فرمائے گاکہ اویس تیری ایک نیکی نے مجھے بہت خوش کیاہے’’ ماں کی خدمت‘‘ توانگلی کااشارہ کرجدھر جدھر تیری انگلی پھرتی جائے گی میں تیرے طفیل ان کوجنت میں داخل کردوں گا۔