82

ڈاکٹر شاہد مسعود کو جیل بھیجنے کی تیاریاں مکمل ، چیف جسٹس کیا دھماکہ کرنے والے ہیں؟ تہلکہ خیز بریکنگ نیوز آگئی

ڈاکٹر شاہد مسعود کے زینب کے قاتل عمران کے بینک اکائونٹس اور اس سے متعلق دیگر دعوئوں کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے ان کی خبر پر زینب قتل کیس ازخودنوٹس کیس میں انہیں طلب کر لیا۔ ڈاکٹر شاہد مسعود نے اپنے دعوے میں کہا تھا کہ زینباور قصور کی دیگر بچیوں کے قاتل عمران کے ملک کے بینکوں میں 40اکائونٹس موجود ہیں جن میں بیرون ملکسے بھاری غیر ملکی رقوم کی ٹرانزیکشن کی گئیں ۔ یہ دراصل بین الاقوامی پیڈوفیلیا مافیا کارکن ہے

اور پاکستان میں معصوم اور کم سن بچوں کی متشدد پورن ویڈیوز بنا کر ڈارک ویب پر دکھاتا ہے جبکہ پاکستان میں اس بین الاقوامی ریکٹ کا سرپرست ایک وفاقی وزیر ہے ۔ ڈاکٹر شاہد مسعود سے جب سپریم کورٹ میں ان کے دعوئوں کے ثبوت طلب کئے گئے تو انہوں نے اسلام آباد میں سماعت کے دوران دو نام ایک چٹ پر لکھ کر چیف جسٹس کو دئیے جبکہ اکائونٹس کی تفصیلات بھی حوالے کیں جو کہ بعد میں اسٹیٹ بینک کی رپورٹ آنے پرغلط ثابت ہو گئیں۔ لاہور رجسٹری میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کے علاوہ میڈیا مالکان اور عام صحافیوں کو بھی طلب کر رکھا تھا ۔ سماعت کے دوران کی روداد سناتے ہوئے نجی ٹی وی دنیا نیوز کے پروگرام ’’آن دی فرنٹ‘‘میں اینکر کامران شاہد کو حامد میر نے بتایا کہ سماعت کے دوران کیونکہ چیف جسٹس نے مجھے بھی طلب کر رکھا تھا لہٰذا میں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا ۔

انہوں نے بتایا کہ کمرہ عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کا رویہ انتہائی خراب تھا اور وہ مسلسل ہوٹنگ اور جملے بازی کرتے رہے۔ چیف جسٹس نے دو تین مرتبہ ڈاکٹر شاہد مسعود کو روسٹرم پر طلب کر کے ثبوت طلب کئے مگر وہ ثبوت دینے میں ناکام رہے ۔ اس دوران چیف جسٹس کے ساتھ مکالمے کے دوران بھی ان کا رویہ انتہائی نامناسب تھا ۔چیف جسٹس نے جب انہیں یہ کہا کہ ثبوت فراہم نہ کرنے اور کیس کی تفتیش کا رخ تبدیل کرنے کا جرم ثابت ہونے پر آپ کو جیل بھی جانا پڑ سکتا ہے تو اس پر ان کا کہنا تھا کہ میں رائو انوار کی طرح جہاز میں بیٹھ کر فرار ہو جائوں گا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم آپ کا نام ای سی ایل میں ڈال دیں گے ۔ حامد میر کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس نے اپنا غصے پر نہایت قابو رکھا اور ڈاکٹر شاہد مسعودکو کہا کہ اگر آپ کا جرم ثابت ہو گیا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میں آپ کو آئندہ جرم کرنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا۔ حامد میر کا کہناتھا کہ میں نے عدالت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کی معافی کے حوالے سے بھی تجویز دی تھی جسے ڈاکٹر شاہد مسعود نے مسترد کر دیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں