311

قبرستان : جاوید چودھری

”آﺅ میں تمہارے سوال کا جواب دیتا ہوں“ وہ اٹھے‘ چھتری اٹھائی‘ دروازہ کھولا اور ہم باہر آ گئے‘ ہم ڈھلوانی گلیوں میں چلنے لگے‘ باسفورس زیادہ دور نہیں تھا‘ درختوں کے پتے جھڑ چکے تھے‘ خنکی ہڈیوں کو گدگدا رہی تھی اورفضا میں ایک رومانوی سی دھند چھائی ہوئی تھی‘ ہم آہستہ آہستہ چل رہے تھے” آپ شاید زندگی میں پہلی بار استنبول کی خزاں دیکھ رہے ہیں“ وہ مسکرا کر بولے‘ میں نے جیکٹ کے کالر سیدھے کئے اور ادب سے جواب دیا ”جی سر میں خزاں میں پہلی مرتبہ ترکی آیا ہوں“ ان کی مسکراہٹ پھیل گئی پھیل گئی اور وہ گرم جوشی سے بولے ”آپ کو پھر ہماری خزاں کیسی لگی“ میں نے عرض کیا ”منفرد“ وہ خاموشی سے میری طرف دیکھتے رہے‘ میں نے عرض کیا ”جناب آپ کے شہر میں ایشیا اور یورپ کا ملاپ ہوتا ہے‘ آپ کی خزاں یوریشیا خزاں ہے‘ دنیا میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی“ انہوں نے بھرپور قہقہہ لگایا اور چھتری کھول لی‘ ہلکی ہلکی پھوار پڑنے لگی تھی‘ ہم باسفورس کی طرف بڑھ رہے تھے‘ وہ بولے ”دنیا کی ہر مادی چیز کے ساتھ ایک غیر مادی چیز نتھی ہوتی ہے‘

صوفیاءکرام اس غیر مادی چیز کو جوہر کہتے ہیں“ وہ رکے اورآ ہستہ سے پوچھا ”کیا آپ میری بات سمجھ رہے ہیں“ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا‘ وہ بولے ”مثلاً روح انسان کے مادی جسم کا جوہر ہے‘ یہ غیر مادی جوہر مر جائے تو مادی جسم بھی فوت ہو جاتا ہے گویا ہمارا مادی جسم ہمارے غیر مادی جوہر پر قائم ہے‘ یہ جوہر نہیں رہے گا توجسم بھی نہیں رہے گا‘ اوکے“ میں نے سر ہلا کر عرض کیا ”اوکے“ وہ بولے ”روح کے بغیر جسم کیا ہوتا ہے؟“ میں نے عرض کیا ”لاش“ ان کی آنکھوں کی چمک بڑھ گئی اور انہوں نے مستانہ انداز میں نعرہ لگایا ”سبحان اللہ“ ہلکی ہلکی پھوار بارش میں تبدیل ہوگئی ‘ باسفورس کی مہکتی ہوائیں ہمارے لبادوں سے الجھنے لگیں‘پروفیسر صاحب نے پوری چھتری میرے سر پر تان دی‘ میں نے اعتراض کےلئے منہ کھولا لیکن انہوں نے مجھے اشارے سے خاموش کرا دیا‘ وہ بولے ”دنیا کی ہر مادی چیز میں روح ہوتی ہے‘ یہ روح جب تک قائم رہتی ہے‘ اس میں زندگی رہتی ہے اور جوں ہی یہ جوہر اس کا ساتھ چھوڑتا ہے وہ چیز لاش بن جاتی ہے “ وہ رکے‘ ٹھنڈی سانس لی اور بولے

”روح حلال ہے اور جسم حرام‘ حلال نکل جائے توپیچھے حرام رہ جاتا ہے اور حرام کو تو تدفین کےلئے غسل بھی چاہیے ہوتا ہے اور نمازی بھی“ بارش تیز ہو گئی‘ وہ بارش سے بچنے کےلئے تیز تیز چلنے لگے‘ میں بھی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ ان کا ساتھ دینے لگا‘ وہ بولے ‘میں آپ کے سوال کی طرف آتا ہوں‘ آپ نے فرمایا تھا ”نوٹ ڈاکو کے ہاتھ میں ہو یا قاضی کی جیب میں نوٹ تو نوٹ ہوتا ہے‘ آپ نے درست فرمایا تھا‘ کرنسی صرف کرنسی ہوتی ہے‘ ایک لیرا صوفی کے ہاتھ میں بھی ایک لیرا ہو گا اور یہ ڈاکو کی جیب میں بھی ایک لیرا ہی رہے گا‘ کریکٹر اس کی ویلیو میں کمی بیشی نہیں کرے گا‘ آپ کی بات یہاں تک درست تھی لیکن ڈاکو جب اس مادی نوٹ کے عوض کوئی مادی چیز خریدے گا تواسے وہ مادی چیز تو مل جائے گی لیکن اسے اس مادی چیز کا جوہر نہیں ملے گا‘ وہ چیز روح کے بغیر صرف ایک لاش ہو گی‘ حرام کی کمائی کے نوٹ سے خریدا ہوا پانی خریدار کی پیاس تو بجھا دے گا لیکن یہ اس کے اندر تسکین پیدا نہیں کرے گا‘ یہ آپ کو جراب یا رومال تو فراہم کر دے گا

لیکن آپ کو رومال اور جراب سے وابستہ جوہر نہیں ملے گا‘ آپ چائے یا کافی کا کپ تو خرید لیں گے لیکن آپ اس مزے سے محروم رہیں گے جو اس کافی‘ اس چائے کے جوہر میں چھپا ہوتا ہے‘ آپ دواءتو خرید لیں گے‘ یہ دواءآپ کے جسم میں پروان چڑھتے جراثیم کو بھی مار دے گی لیکن آپ شفاءکے جوہر سے محروم رہیں گے‘ آپ کے اندر صحت مندی کا احساس پیدا نہیں ہوگا‘ آپ تربوز تو خرید لیں گے اور آپ کا تربوز سرخ اور میٹھا بھی ہو گا لیکن تربوز کی مٹھاس اور سرخی آپ کے اندر احساس تشکر پیدا نہیں کرے گی‘ آپ اسی طرح نقل لگا کر امتحان پاس کر لیتے ہیں‘ آپ کام چوری کے باوجود پوری تنخواہ لیتے ہیں‘ آپ گندے ٹماٹر صاف ٹماٹروں میں چھپا کر بیچ دیتے ہیں‘ آپ دھوکے سے دوسروں کی جائیداد ہتھیا لیتے ہیں‘ آپ کسی کا بیگ چرا لیتے ہیں‘ آپ غیبت کے مزے لیتے ہیں‘ آپ سکون کیلئے حرام تعلقات قائم کرلیتے ہیں مگر آپ کی زندگی اور بے سکون ہوجاتی ہے ، آپ دوسروں کی توہین میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور آپ گیند کو رگڑ کر دوسرے کھلاڑی کو آﺅٹ کر دیتے ہیں‘

آپ نے اپنا ٹارگٹ اچیو کر لیا لیکن سوال یہ ہے‘ کیا یہ اچیومنٹ‘ کیا یہ کامیابی‘ کیا یہ چوری‘ کیا یہ فراڈ‘ کیا یہ دھوکا‘ کیا یہ کام چوری اور کیا نقل کے ذریعے حاصل ہونے والی یہ ڈگری آپ کو تسکین بھی دے گی؟ جی نہیں! آپ تسکین سے محروم رہیں گے‘ کیوں؟ کیونکہ یہ ساری کامیابیاں روح کے بغیر ہیں‘ یہ جوہر سے محروم ہیں‘ یہ لاشیں ہیں اور آپ کا بدن ان لاشوں کا قبرستان ہے“ وہ رکے اور لمبا سانس لیا۔ ہم باسفورس کے کنارے پہنچ چکے تھے‘ ہم آہستہ آہستہ ایشیا کو یورپ سے ملانے والے پل کی طرف چل پڑے‘ سمندر دھند کی چادر کے نیچے لیٹا تھا‘ وہ بولے ”مادے کی خوراک مادہ اور جوہر کی خوراک جوہر ہوتی ہے‘ مادی جسم کو مادی سیب اچھا لگتا ہے لیکن انسانی روح کو سیب کے جوہر کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ جوہر صرف حلال میں پیدا ہوتا ہے‘ آپ کے اندر جتنا جوہر اکٹھا ہوتا جاتا ہے‘ آپ کی روح اتنی ہی توانا‘ اتنی ہی مضبوط ہوتی جاتی ہے‘ میں جب اپنے شیخ کے ساتھ تھا تو میرے استاد نے مجھے مزدوری پر لگا دیا‘ میں بحری جہازوں میں لوڈنگ ان لوڈنگ کرتا تھا‘

میں سارے دن کی محنت کے بعد جتنے پیسے کماتا تھا‘ میرا استاد ان میں سے دو وقت کے کھانے کی رقم رکھ کر میری باقی کمائی خیرات کر دیتا تھا‘ میں نے ان سے ایک دن اس حکمت کی وجہ پوچھی‘ وہ مسکرا کر بولے‘ تم گیارہ مہینے یہ کام کرو‘ میں تمہیں اس کے بعد اس کا جواب دوں گا‘ میں گیارہ ماہ لوڈنگ ان لوڈنگ کرتا رہا‘ میرا وظیفہ مکمل ہو گیا تو میرے استاد نے مجھ سے کہا ”تم آج مزدوری کےلئے جاﺅ‘ کام شروع ہو جائے تو تم جھوٹ موٹ کے بیمار پڑ جانا‘ سارا دن کام کو ہاتھ نہ لگانا‘ شام کو اپنا معاوضہ لینا اور واپس آ جانا“ میں نے شیخ کے حکم پر عمل کیا‘ میں سارا دن پیٹ میں درد کا بہانہ بنا کر گودی پرلیٹا رہا‘ شام کو معاوضہ لیا اور استاد کے پاس آ گیا‘ استاد نے فرمایا‘ تم اب دو وقت کے کھانے کے پیسے رکھ کر باقی رقم خیرات کر دو‘ آپ یقین کریں وہ گیارہ ماہ میں پہلا دن تھا جب میرادل خیرات کو نہیں چاہ رہا تھا‘ میں نے اس دن خوب سیر ہو کر کھانا کھایا لیکن میری بھوک ختم نہیں ہوئی‘ میں نے اس رات پہلی بار اپنے کمرے کی کنڈی لگائی‘ میں گھوڑے بیچ کر سویا

لیکن میری نیند مکمل نہیں ہوئی‘ مجھے اگلے دن اپنے جسم سے بو آئی اور مجھے پہلی مرتبہ اپنے کپڑوں پر پرفیوم لگانا پڑا اور مجھے پہلی مرتبہ نماز میں لذت محسوس نہیں ہوئی‘ میں نے شیخ کو اپنی ساری کیفیات بتائیں‘ وہ ہنس کر بولے‘ بیٹا یہ حرام کا کمال ہے‘ حرام آپ کی زندگی کی تمام نعمتوں کا جوہر اڑا دیتا ہے‘ آپ انسان سے جانور بن جاتے ہیں‘ میرے استاد نے بتایا‘ جلال الدین حرام ہمیشہ آپ کی بھوک بڑھا دیتا ہے‘ یہ آپ کی نیند میں اضافہ کرتا ہے‘ یہ آپ کے جسم میں بو پیدا کرتا ہے‘ یہ آپ کا دل تنگ کر دیتا ہے‘ یہ آپ کی سوچ کو چھوٹا کر دیتا ہے‘ یہ آپ کی نیند کو پھیلا دیتا ہے اور یہ آپ کی روح سے سکون کھینچ لیتا ہے‘ میرے استاد نے مجھے بتایا‘ آپ کو آج ایک دن کا حرام 40 دن ستائے گا‘ آپ ان 40 دنوں میں جھوٹ کی طرف بھی مائل ہوں گے‘ آپ غیبت بھی کریں گے‘ آپ کے دل میں لالچ بھی آئے گا‘ آپ دوسروں کو دھوکا بھی دیں گے اور آپ کے اندر امیر بننے کی خواہش بھی پیدا ہو گی‘ میں ڈر گیا اور میں نے استاد سے پوچھا‘ میں اگر حرام کے ان برے اثرات سے بچنا چاہوں تو

مجھے کیا کرنا پڑے گا‘ وہ بولے ”روزہ رکھو اور خاموشی اختیار کرو‘ یہ دونوں تمہیں اندر سے پاک کر دیں گے“ وہ رکے‘ لمبا سانس لیا اور بینچ پر بیٹھ گئے۔ بارش تھم چکی تھی‘ دھند کی چادر سرک رہی تھی‘ سمندر کا نیلا پانی مزید نیلا ہو رہا تھا‘ میں نے عرض کیا ” میں پاکستان سے آیا ہوں‘ کیا میرایہ سفر رائیگاں چلا جائے گا“ انہوں نے نفی میں سر ہلایا اور بولے ”ہرگز نہیں‘ میں نے چالیس سال کی تپسیا کے بعد جو سیکھا‘ وہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں‘ یہ کائنات ایک صندوق ہے‘ اس صندوق پر اسرار کا موٹا تالا پڑا ہے‘ یہ تالا ایک اسم اعظم سے کھلتا ہے اور وہ اسم اعظم ہے حلال‘ آپ زندگی میں حلال بڑھاتے جاﺅ کائنات کا صندوق کھلتا چلا جائے گا“ میں نے عرض کیا ”اور حرام کی پہچان کیا ہے“ وہ بولے ”دنیا کی ہر وہ چیز جسے دیکھنے‘ سننے‘ چکھنے اور چھونے کے بعد آپ کے دل میں لالچ پیدا ہو جائے وہ حرام ہے‘ آپ اس حرام سے بچو‘یہ آپ کے وجود کو قبرستان بنا دے گا‘ یہ آپ کو اندر سے اجاڑ دے گا‘ یہ آپ کو بے جوہر کر دے گا“ ماحول پر چھائی دھند چھٹ گئی ‘ باسفورس پر سورج چمکنے لگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں