144

دوستی کرتے وقت کن چیزوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے؟

لندن: دوستی دو لوگوں کے مابین جڑنے کا رشتہ ہے جس کو نبھانے کے لیے طریقہ کار بھی موجود ہیں، آپ کسی کے ساتھ زور زبردستی کرتے ہوئے اس رشتے سے منسلک نہیں ہوسکتے اور اگر ہو بھی جائیں تو یہ رشتہ زیادہ عرصے نہیں چلتا۔ برطانوی ماہرین نے دوستی کی مدت اور رشتے کی اہمیت سے متعلق تحقیق کی جسے جرنل آف سوشل اینڈ پرنسل ریلیشن شپ جریدے میں شائع کیا گیا ہے۔اس مطالعاتی تجزیے میں محقق جیفر کار نے نئے دوست بنانے، لوگوں سے دوستی نبھانے اور اس رشتے میں آنے والے مسائل پر اپنی ٹیم کے ساتھ تفصیلی غور و خوض کیا۔ تحقیق کے پہلے مرحلے میں اس بات کو دیکھا گیا کہ لوگ کس طرح ایک دوسرے کے قریب جاتے اور کیوں اہم ہوجاتے ہیں؟مطالعے میں تقریباً 355 افراد کی رائے لی گئی جن میں سے اکثریت نوجوانوں کی تھی۔

مطالعے سے ملنے والے نتائج کے مطابق پہلے مرحلے میں اُن لوگوں سے سوالات کیے گئے جو 6 ماہ سے نئی دوستوں کو تلاش کررہے تھے یا پھر اُن کا نیا دوستی کا رشتہ قائم ہوا تھا۔ نوجوانوں سے سوال کیا گیا کہ وہ دوست بنانے کے لیے لوگوں سے کیسے ملتے ہیں اور کیسے اُن سے دوستی کا رشتہ قائم کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے لیے نہ صرف اہم ہوجاتے بلکہ کئی گھنٹے اُن کے ساتھ گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اکثر نوجوانوں کا جواب تھا کہ وہ دوستی کرتے وقت چار چیزوں کو مدنظر رکھتے ہیں، پہلا یہ کہ جس سے مل رہے ہیں وہ جاننے والا یعنی واقف کار ہے؟، دوسرا کیا مذکورہ شخص ہے وہ بااعتبار دوست بن سکتا ہے؟ تیسرا کیا وہ صرف دوست بن سکتا ہے اور چوتھا کیا وہ بہت اچھا اور بااعتماد دوست بن سکتا ہے؟ اُس کے بعد فیصلہ کر کے رشتہ استوار کرتے ہیں۔

دوسرے حصے میں مچھیروں اور طالب علموں سے سوال کیا گیا کہ ’دو نئے لوگ جب ملتے ہیں تو اُن کی دوستی کا رشتہ کتنے عرصے میں قائم ہوجاتا ہے’؟، طلباء اور دیگر لوگوں نے جواب دیا کہ کسی بھی شخص سے دوستی میں 4 سے 6 ہفتے کا وقت درکار ہوتا ہے‘۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ جو لوگ ہفتے میں 40 سے 60 گھنٹے دیتے ہیں انہیں بااعتبار دوست جبکہ 80 سے 10 گھنٹے بات چیت کرنے والوں کو صرف دوست اور 200 گھنٹے دینے والے شخص کو بہت اچھا دوست سمجھا جاتا ہے۔