91

جمہوریت، آمریت اور کتاب – زاہدہ حنا

انسان نے سیدھا چلنا، کھیت جوتنا، باغ لگانا سیکھا تو یہ مشقت کے ایسے کام تھے جو اس کا خون پسینہ نچوڑ لیتے تھے۔ اس کی یہ محنت مشقت اس سے تفریح کی طلب گار ہوئی۔کبھی چاند کا میلہ اور کبھی موسم بہار کا۔ فصل کی کٹائی کے موقع پر ناچ گانا۔ انسان نے مشکل اور محنت طلب زندگی میں راحت اور سکون کے لمحوں کے لیے کیا کیا بہانے نہیں تراشے۔کچھ دنوں پہلے تک ہمارے یہاں بسنت ہوتی تھی، نوروز کا تہوار منایا جاتا تھا، جب تک ہندو اور سکھ ہمارے اور ہم ان کے ساتھ تھے اس وقت تک ہولی، دیوالی اور کئی دوسرے تہوار ہم بھی مناتے تھے۔ بٹوارا ہوا، وہ چلے گئے تو ان کے تہوار بھی ان کے ساتھ رخصت ہوئے۔

مغلوں نے کیسے دل کش اور عوامی تہوار ایجاد کیے تھے۔ بہار کا موسم آغاز ہوتا تو جشن نوروز منایا جاتا، جس میں شاہی محل کے در و دیوار پر رنگین چراغاں ہوتا، مختلف رنگوں سے جھلکتی ہوئی روشنی محل کا حسن دوبالا کرتی اور یوں محسوس ہوتا جیسے بہار محل کے در و دیوار پر سانس لے رہی ہے۔ عوام بھی اپنی حیثیت کے مطابق نوروز مناتے، میلہ چراغاں کی رونق کچھ الگ تھی۔ آخر آخر مغلوں کے دورِ اقتدار میں پھول والوں کی سیر سے خواص و عوام سب ہی لطف اٹھاتے۔ اس کے نظارے ہم نے اپنی نصابی کتابوں میں دیکھے۔ بہت سے تہوار ہم سے چھین لیے گئے۔ اب بہت دنوں سے ہمارے یہاں ان لوگوں کا رعب و دبدبہ ہے جو انسانوں کو خوش ہوتے دیکھ کر ناخوش ہوتے ہیں۔ میں ان ہی خیالوں میں گم تھی اور پاک چائنا فرینڈشپ سینٹر کی پہلی منزل سے بچوں، عورتوں اور مردوں کا ہجوم دیکھ رہی تھی۔ لوگ امنڈے چلے آرہے تھے۔ ان کے چہروں سے خوشی چھلک رہی تھی اور بچوںکا یہ عالم تھا کہ وہ اپنے بڑوں کا ہاتھ چھڑا کر ان دکانوں پر ٹوٹے پڑ رہے تھے جو کہانیوں کی رنگین کتابوں، نقشوں اور رنگ برنگ کی پنسلوں سے بھری ہوئی تھیں۔

یہ کتابوں کا قومی میلہ تھا جو نو برس سے نہایت پابندی سے منایا جاتا ہے۔ جس طرح آکسفورڈ کا کراچی لٹریچر فیسٹیول ہمارے شہر کراچی کی رونق دوبالا کرتا ہے اسی طرح کتابوں کا یہ قومی میلہ اسلام آباد کی پہچان بن گیا ہے۔ اس کی سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ یہاں عوام کی نئی اور پرانی نسل کے لوگ امنڈ آئے تھے۔ کتابوں کے دو رویہ اسٹالوں پر وہ ہجوم تھا جیسے رمضان کے آخری دنوں میں عید کی خریداری ہورہی ہو۔ فرق تھا تو یہ کہ مہندی، چوڑی اور دوپٹے کے بجائے طلسم ہوشربا، سندباد جہازی کا سفر، الف لیلہ اور سنو وہائٹ کی کہانیاں بچے ذوق و شوق سے خرید رہے تھے، کچھ معلوماتی اور سائنسی کتابوں کی ورق گردانی کررہے تھے۔
وہ بچہ شاید سات برس کا ہوگا، اپنی نازک انگلیوں سے کہانی کی ایک کتاب کو بار بار الٹ پلٹ کر دیکھ رہا تھا۔ وہ اس کے صفحوں پر اپنی انگلیاں پھیرتا اور سوالیہ نگاہوں سے اپنی ماں کو دیکھتا۔ دستِ سوال دراز کرنے کا اتنا دل کش انداز میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ماں اپنے بٹوے میں نوٹ اور سکے تلاش کررہی تھی اور وہ اس کتاب پر اپنی انگلیاں پھیر رہا تھا۔ ایک خاموش مکالمہ تھا جو ماں بیٹے کے درمیان ہورہا تھا۔

ماں نے چند نوٹ دکان دار کے ہاتھ میں رکھے اور وہ بچہ نہالوں نہال ہوگیا۔ آنکھوں کی چمک اور رخسار کی دمک دیدنی تھی۔ اسے دیکھتے ہوئے مجھے بے اختیار اپنا بچپن یاد آیا جس میں کتابوں کے لیے ایسی ہی ہمک ہوتی تھی۔ فرق تھا تو اتنا کہ ہمارے دور میں کتابیں اتنی پرکشش نہیں ہوتی تھیں، اس زمانے میں بچت اسی لیے کی جاتی تھی کہ روپے ڈیڑھ روپے اکھٹے ہوجائیں تو اس سے کوئی من پسند کتاب خریدی جا سکے۔ محلے کی آنہ لائبریری کا ماہانہ کرایہ دو روپے ہوتا تھا اور اسے ادا کرکے یوں محسوس ہوتا تھا کہ قارون کا خزانہ ہاتھ آگیا ہے۔ مجھ ایسے تیز پڑھنے والوں سے آنہ لائبریری والا ناراض رہتا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ اتنا تیز پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس دور کے مشہور تاریخی ناول اپنے محلے کی آنہ لائبریری سے لے کر پڑھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد اور دیوان سنگھ مفتون کو بھی اسی آنہ لائبریری کی عنایت سے پڑھا۔ ان دنوں آنہ لائبریری چلانے والوں کا ذوق اعلیٰ ہوتا تھا اور وہ اس پر بھی نظر رکھتے تھے کہ بچے کوئی ’غلط‘ کتاب نہ لے جائیں۔

میں ان ہی خیالوں میں غلطاں تھی کہ فاطمہ حسن نے شانہ ہلایا ’’آپ پھر خیالوں میں تیرنے لگیں۔ صدر صاحب کی آمد کا وقت ہوا چاہتا ہے‘‘۔ میں 60 برس سے زیادہ کی مدت ٹپ کر حال میں آگئی۔ ناصرہ زبیری، رخشندہ نوید، صغریٰ صدف اور صوفیہ بیدار کے ساتھ آڈیٹوریم کا رخ کیا، جہاں بچے اور بچیاں جھوم جھوم کر گا رہے تھے ’کتابوں کی دنیا سلامت رہے‘۔ دل موہ لینے والا یہ گیت ہم سالہا سال سے سن رہے ہیں اور وجد کررہے ہیں۔ یہ گیت جسے بچے آیندہ برسوں میں بھی گائیں گے اور دلوں میں کتابوں کی محبت کے چراغ جلائیں گے۔

صدر محترم ممنون حسین مقررہ وقت پر تشریف لائے تو اپنے منتظر بچوں کے ساتھ اسی انکسار اور دردمندی کے ساتھ ملے جو ان کے مزاج کا خاصا ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے بچے جو گھنٹوں سے ان کے انتظار میں کھڑے تھے انھوں نے لہک لہک کر کتابوں کا ترانہ گایا اور ہم میں سے اکثر زیر لب ان کا ساتھ دیتے رہے۔ بچے رخصت ہوئے تو نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ڈاکٹر انعام الحق جاوید نے ہمیں بتایا کہ ’امن انقلاب بذریعہ کتاب‘ کے نعرے کو اختیار کرکے نیشنل بک فاؤنڈیشن نے 2017 کے سال میں 33 کروڑ 54 لاکھ روپے کی کتابیں ملک بھر میں فروخت کیں۔ یہ اتنی بھاری رقم ہے جسے پڑھ کر ذہن سرشار ہوتا ہے اور ان لوگوں کے سامنے آئینہ رکھنے کو جی چاہتا ہے جو بہ اصرار یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں کتابوں کی فروخت کم ہوئی ہے اور لوگوں میں کتاب پڑھنے کا رجحان گھٹ گیا ہے۔

ڈاکٹر انعام الحق نے ہمیں بتایا کہ 18 ویں ترمیم کے بعد این بی ایف بطور فیڈرل ٹیکسٹ بک بورڈ بھی اپنی ذمے داریاں پوری کررہا ہے۔ ان دنوں ہمارے یہاں 18 ویں ترمیم کے مخالفین اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ کسی طرح اس ترمیم کا خاتمہ ہوسکے تاکہ صوبائی خودمختاری کو ایک زوردار جھٹکا دیا جاسکے اور ایک بار پھر مختلف معاملات کو مرکز کے زیرانتظام لایا جاسکے۔ جمہوریت کو سلب کرنے کا اس سے بہتر نسخہ تجویز نہیں کیا جاسکتا۔ ان سے یہ سن کر بھی بہت خوشی ہوئی کہ این بی ایف نے جیل خانوں میں سزا کاٹنے والوں کو بھی انسان سمجھا ہے اور ملک کے 9 جیل خانوں میں قیدیوں کے لیے کتابیں فراہم کی گئی ہیں۔ یہ کتابیں ان کے لیے روشنی کی کرن ہیں جو اپنی زندگی کے سیاہ شب وروز گزار رہے ہیں اور اپنے پیاروں سے دور ہیں۔

اس روز افتتاحی تقریب میں عرفان صدیقی بھی موجود تھے۔ وہ وزیراعظم کے مشیر برائے قومی تاریخ اور ادبی ورثہ ہیں اور ایک متحرک اور سرگرم شخص کے طور پر ان کی رہنمائی میں ملک کے مختلف علمی اور ادبی اداروں کو نئی زندگی ملی ہے۔ اپنی تقریر کے دوران انھوں نے بتایا کہ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے ان کی درخواست پر ادیبوں اور ادبی سرگرمیوں کے لیے 50 کروڑ کا ایک انڈومنٹ فنڈ قائم کیا، جس کے طفیل اب ہم اپنی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے لیے کسی کے بھی دست نگر نہیں رہے ہیں۔ ہر مہینے ہمیں اس انڈومنٹ فنڈ کی آمدنی سے لاکھوں روپے مل جاتے ہیں، جس کے ذریعے ہم اپنی سرگرمیاں کھلے ہاتھ اور کھلے دل سے کرتے ہیں۔ اس روز افتتاحی تقریب میں قومی تاریخ اور ادبی ورثہ کے وفاقی سیکریٹری انجینئر عامر حسن بھی موجود تھے اور انھوں نے بھی اس کتاب میلے کی اہمیت اور افادیت پر روشنی ڈالی۔

صدرمحترم ممنون حسین روسٹرم پر تشریف لائے تو حسب معمول انھوں نے علم وادب اور تاریخ سے نوجوانوں کی آگہی کی اہمیت پر اصرار کیا۔کچھ لوگوں کو ممنون صاحب اس لیے اچھے نہیں لگتے کہ ان کے لباس میں کلف نہیں لگا ہوا اور نہ ان کے لہجے میں رعونت اور تکبر ہوتا ہے۔ وہ ایک شفیق بزرگ کی طرح باتیں کرتے ہیں، اسی لیے لوگوں کو وہ گھر کے بزرگ محسوس ہوتے ہیں، ان سے خوف نہیں آتا، وہ چاہتے ہیں کہ ان سے اپنے اور دوسروں کے دکھ سکھ کہہ دیے جائیں۔ اسلام آباد سے واپسی پر سوچ رہی تھی کہ یہ سب جمہوریت کی بہاریں ہیں۔ جب ووٹ کا احترام ہوتا ہے اور وہ جیت جاتا ہے تو کتابوں کی الماریاں بھی آباد ہوجاتی ہیں۔ آمریت کتاب سے ڈرتی ہے اور جمہوریت کتاب کے سہارے چلتی ہے۔ کاش ہمارا یہ سفر جاری رہے۔