190

اگر تحریک انصاف نے جلد از جلد یہ ایک کام نہ کیا تو اس کا انجام (ق) لیگ سے ذرا بھی مختلف نہیں ہو گا ۔۔۔نوجوان خاتون صحافی نے مختلف حلقوں کے اعداد و شمار پیش کرکے شاندار بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) پی ٹی آئی نے پاکستان میں تبدیلی لانی تھی لیکن ان کےناقدین کے مطابق پھچلے سال میں الیکٹیبلز کی آمد سے پارٹی خود ہی تبدیل ہو گئی۔ ناقدین پوری طرح سے غلط بھی نہیں۔ جو پارٹی بے حد غلیظ اصطبل صاف کرنے کے لیے بنی تھی وہ خود ہی اس گندگی میں لوٹ پوٹ ہو رہی ہے۔نامور خاتون مضمون نگار عارفہ نور لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔ وہ لوگ جو روایتی سیاست کے گند سے بھرے ہیں اور اپنے ساتھ گناہوں کی فہرست لیے پھرتے ہیں انہیں یہ پارٹی پورے انہماک کے ساتھ خوش آمدید کہہ رہی ہے۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس وجہ سے بہت سے اصل پی ٹی آئی کے رکن جنہوں نے اس پارٹی کے ساتھ کئی سال مشکل وقت میں کام کیا ، پریشانی کا شکار ہوئے ہیں ۔ البتہ پارٹی کی یہ تبدیلی انتخابی حقائق کے مرہون منت ہے۔ 2013 کے الیکشن ـــــــ پی ٹی آئی کے رانے دھونے اور دھاندلی کے الزامات کے باوجود ــــ پارٹی کے لیے چشم کشاں بھی تھے۔ پنجاب میں ، جہاں پی ٹی آئی کو لگتا تھا کہ ان کی سپورٹ بیس بہت مضبوط ہے ، وہاں انہیں مٹھی بھر کامیابی ہی ملی ۔

چھ براہ راست منتخب سیٹیں (اگر ہم شیخ رشید کی جیتی گئی سیٹ ملایں تو سات) اور ان میں سے ذیادہ تر سیٹیں اان ارکان نے جیتیں جوپچھلی کئی دہائیوں سے سیاست کے مختلف روپ میں حصہ دار رہے ہیں۔ ان میں سے کسی نئے اور صاف چہرے نے سونامی کو پنجاب میں ایسے نہیں پھیلایا جیسے کے پی کے میں پھیلایا ہے۔ راولپنڈی کی مثال ہی لے لیں؛اس تحصیل میں پی ایم ایل۔ (ن) نے سات میں سے تین سیٹں جیتیں ، جو پی ٹی آئی کے لیے بڑا دیچکا تھا ـــــ جو راولپنڈی کو لاہور کے بعد اپنے گڑھ کے طور پر دیکھتی تھی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ فتح خاص لوگوں کو ہی ملی۔ حتیٰ کہ خان نے ان میں سے ایک سیٹ جیتی جس کی وجہ ان کی ذاتی شہرت اور پر کشش شخصیت تھی جس کی لاہور میں دھاک نہ بیٹھی ۔ دوسری سیٹ شیخ رشید کے سپرد ہوئی ( جو پی ٹی آئی کے قریبی اتحادی تھے) اور تیسری سرور خان کو ملی۔ مسلم لیگ (ن) اور ق کی گورنمنٹ کا حصہ رہنے والے شیخ رشید آج تک راولپنڈی میں ایک ہی بار 2008 میں ہارے اور انہوں نے کبھی پاکستان میں تبدیلی کے نعرے نہیں لگائے۔

اپنے دشمن نثار علی خان کی طرح سرور خان بھی سیاسی حلقے میں ایک پرانا ہاتھ ہیں ۔ 1990 سے نثار اور ان کی اسی لیے لڑائی چل رہی ہے۔ 2002 میں ، وہ ہار گئے تھے لیکن انہوں نے پھر بھی 50000 ووٹ لئے تھے جبکے نثار علی نے72257 دوسرے الفاظ میں سرور کا اپنا ایک اینٹی نواز ووٹ بینک ہے، جن کا الیکشن کرانے اور منعقد کرنے کا تجربہ ہے . اور انہیں جیتنے کے لیے بس تھوڑی سی ہی مدد درکار تھی ۔ وہ پارٹی جو ان کے لیے کچھ ووٹ لا سکتی تھی۔ یہ ہی الیکشن کے دن بھی ہوا کہ نثار کو سرور خان نے 10000 ووٹوں سے ہرا دیا۔ اس طرح کی بہت کم کامیابیاں پنجاب میں دیکھی گئیں۔ PTI کو یہ زبردستی باور کروایا گیا کہ شہری علاقوں میں خاص طور پر اس کا ووٹ بینک الیکشن جیتنے کے لیے نا کافی ہے۔ انہیں الیکٹیبل چاہیں ــــ وہ سیاست دان جنہیں پتہ ہے کہ الیکشن کیسے لڑے اور جیتے جاتے ہیں اور جن کے پاس ووٹ ہیں۔ نئے آنے والے صاف کردار اور تھوڑے تجربہ کار ، صفحوں پر عظیم لگتے ہیں لیکن ان کاڈی ڈے پر کچھ ذیادہ کام نہیں ہوتا۔

پارٹی کے سنئیر لیڈر نے کہا کہ پی ٹی آئی اقتدار میں آ کر ان لوگوں کو قابو میں رکھے گی اور ملک کے لیے کام کرے گی اور یہ بھی کہا کہ ان کے بغیر پارٹی کا اقتدار میں آنا بھی شاید ممکن نہیں۔ یہ دعوی کسی حد تک ٹھیک ہے ۔ سیاسی پارٹی کا سب سے ذیادہ اور اہم مقصد اقتدار میں آنا ہے ــــ اور یہ چیز اصولوں سے ذیادہ اہمیت رکھتی ہے خاص طور پر سیاسی پارٹی کے لیے۔ پارٹی میں اس طرح کا کمپرومائز پنجاب میں منظر نامے کے بدلاو کی وجہ ہے۔ صوبے میں اینٹی نواز ووٹ کے پاس پی ٹی آئی کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔اس کا مطلب ہے کہ پارٹی کو فصلی بٹیروں کی توجہ سمیٹنے میں زیادہ محنت نہیں کرنی پڑے گی۔ آئین سازوں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے زیادہ تگ ودو نہیں کرنی پڑے گی۔ ۔چیلنج اصل ایجنڈے یعنی تبدیلی کےدعوے پر قائم رہنا ہے جس کے تحت کرپشن فری گورنینس، اور وہ برائے نام نظریاتی ووٹرز کا نعرہ شامل ہے۔ لیکن اس چیلنج کو پارٹی کتنی اچھی طرح پورا کرے گی یہ تو ان کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی پتہ چلے گا۔ ان کے پاس دو آپشنز ہیں۔

ایک یہ کہ ن لیگ کے مخالف قوتیں پنجاب سےختم ہو جایں تا کہ پی ٹی آئی پنجاب کی دوسری بڑی جماعت بن سکے۔ لیکن ایسا ہونے سے پارٹی ق لیگ کی طرح بے معنی ہو کر رہ جائے گی جسے کوئی بھی پارٹی کسی بھی وقت مشکلات سے دوچار کر سکتی ہے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ یہ پارٹی اپنی شناخت اور ووٹ بینک برقرار رکھ سکے۔ ماضی میں، پی پی پی نے بھی ایسے فیصلے کئے۔ جو پارٹی محروم اور غریب طبقہ کے لیے بنی تھی کچھ حلقوں میں اسے وڈیروں اور جاگیرداروں پر انحصار کرنا پڑا جو دیہاتی غریب عوام کا ووٹ دلوا سکتے تھے۔ راویت برتی۔ لیکن اس اہم فیصلے کی وجہ سے پیپلز پارٹی اپنی شناخت کھونے سے بچ گئی۔ اس نے نہ صرف اپنا نظریاتی دعوی برقرار رکھا بلکہ اپنا ووٹ بینک بھی کمزور نہ ہونے دیا۔ اور پھر 2008 کاواقعہ ہو گیا۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا پی ٹی آئی موجودہ رئیلزم کے عمل سے گزرنے کے بعد اپنی سپورٹ برقرار رکھ پاتی ہے یا نہیں۔ اگر یہ کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر یہ ق لیگ کے مقابلے میں زیادہ لمبی اننگز کھیل سکتی ہے۔ لیکن جو بھی ہو، یہ میچ اتنا آسان نہیں ہو گا۔