64

رمضان کی رحمتیں اور برکتیں

اللہ تبارک و تعالی کریم اور رحیم ہے اور اس ذوالجلال والالکرام کے انسان پر بے پایاں انعامات کی بارش ہمیشہ ہوتی رہتی ہیاور بلا توقف لیکن کچھ ایام کو اللہ نے اپنے فضل سے مخصوص کر رکھا ہے اور یہ ہے رمضان کا مہینہ رمضان کا لفظی مطلب ہے جلانا اور اس ماہ مبارک میں اللہ رب العزت آپ کے گناہوں کو جلاتا ہے اس مہینے کا نام اللہ تبارک و تعالی نے خود رکھا ہے جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت 185 میں اللہ نے فرمایا ہے ” رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا” ویسے تو درتوبہ ہر وقت ہی کھلا ہے لیکن رمضان کی بات ہی کچھ اور ہے اللہ کا عرش پہلے آسمان پر آجاتا ہے اور اللہ اپنے بندوں پر اپنی رحمتیں نچھاور کرتا رہتا ہے کہ ہے کوئی جس کو بخش دوں نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم رمضان کے استقبال کا نہایت اہتمام کرتے 15 شعبان کو روزہ رکھتے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ 15 شعبان کو ہمارا حساب کتاب اللہ تعالی کے حضور پیش ہوتا اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں جب میرا حساب اللہ کے حضور پیش ہو تو میں روزیسے ہوں اور اسی مبارک مہینے میں اللہ نے تمام علوم اتارے اسی میں تمام صحائف اترے جیسے پہلی رمضان المبارک کو حضرت ابراہیم علیہ السلام پر صحیفے اترے 2 رمضان المبارک کو حضرت موسی علیہ السلام پرتورات نازل کی گئی 6 رمضان المبارک کو حضرت داود علیہ السلام پر زبور اتری اس طرح حضرت عیسی علیہ السلام پر 12 یا 18 رمضان المبارک کو انجیل اتری اسی ماہ مبارک کی 21 تاریخ کو قرآن اترا یہ رحمتوں برکتوں اور مغفرت کا مہینہ ہے .

اسی میں وہ مبارک رات بھی ہے جس کی ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں سے افضل ہے جو ،29 21،23،25،27 رمضان المبارک کی راتوں میں سے کوئی ایک رات ہو سکتی ہے ہم سے پہلی امتوں کے لئے روزے تو تھے لیکن تراویح صرف اس امت محمدی صل اللہ علیہ وسلم کے لئے خاص ہے اس میں تراویح کی اہمیت دیکھیں کہ ایک سجدہ 1500 نیکیوں کا حامل ہے 20 رکعت اور 60 ہزار نیکیاں یہ سودا اور کہاں سے ملے گا اس سے انسانوں کے تزکیہ نفس کے علاوہ جسمانی صحت بھی درست ہوتی ہے اللہ نے آپ کو باقی بے پایاں انعامات عطا کئے ہیں اس میں آپ کے ضرورت مند بہنوں اور بھائیوں کے لئے ایک حصہ بطور فطرہ مقرر کیا ہے جو آپ کی جانب سے اپنے نادار اور ضرورت مند بہنوں اور بھائیوں کو ادا کرنا ہے یہی اللہ تعالی کا حکم ہے ویسے تو سستی جنس یعنی گندم کے 3 کیلو کے برابر قیمت لگوا کر حاجتمندوں میں عید سے پہلے دے دیں تاکہ وہ عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں لیکن افضل ہے کہ کھجور یا کشمش کی 3 کیلو قیمت لگواکر فطرہ دے دیں .رمضان وہ برکتوں والا مبارک مہینہ ہے جس میں اللہ سب کو بخش دے گا لیکن اسی قادر مطلق کا حکم ہے کہ وہ ان 4 لوگوں کو اس ماہ مبارک میں بھی نہ بخشے گا ایک مستقل شراب پینے والا دوسرا ماں باپ کا نا فرمان تیسرا رشتے داروں سے تعلق توڑنے والا یعنی قاطع رحم اور چوتھا کینہ یا بغض رکھنے والا

حضرت کعب بن عجرہ انصاری سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو فرمایا کہ منبر کے قریب آجاؤ اور خود نبی مکرم خطبہ دینے کے لئے منبر پر تشریف لے جانے لگے جب منبر کے پہلے زینے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب دوسرے زینے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب تیسرے زینے پر قدم رکھا تو فرمایا آمین اس کے بعد آپ نے جو فرمایا تھا تو فرمانے کے بعد جب آپ منبر سے نیچے تشریف لے آئے تو ہم لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم آج ہم نے آپ سے ایسی چیز سنی جو اس سے پہلے ہم نے نہیں سنی یعنی ممبر پر چڑھتے ہوئے ہر زینے پر آپ نے فرمایا آمین آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب میں منبر پر چڑھنے لگا تو جبرائیل امین آگئے انہوں نے کہا تباہ برباد اور محروم ہو وہ شخص جو رمضان کا مہینہ پائے اور اس میں بھی اس کی مغفرت کا فیصلہ نہ ہو میں نے کہا آمین جب میں نے دوسرے زینے پر قدم رکھا جبرائیل امین نے کہا کہ تباہ و برباد ہو وہ بے توفیق جس کیسامنے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا ذکر آئے اور وہ آپ صل اللہ علیہ وسلم پر درود نہ بھیجے میں نے کہا آمین پھر جب میں نے تیسرے زینے پر قدم رکھا تو جبرائیل امین نے کہا تباہ و برباد اور محروم ہو وہ شخص جس کے ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک اس کے سامنے بوڑھا ہو جائے اور یہ ان کی خدمت کرکے جنت کا مستحق نہ ہوجائے تو میں نے اس پر بھی کہا آمین

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیاطین قید کردئے جاتے ہیں اور جنتا جکڑ دئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئے جاتے ہیں ان میں سے ایک دروازہ بھی کھلا نہیں رہتا جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں اور ایک بھی دروازہ بند نہیں رہتا اور ایک پکارنے والا پکار لگاتا ہے اے خیر کے طالب آگے بڑھ یعنی نیکیاں کر اور اے شر کے شوقین باز یعنی برائی کو چھوڑ دے ارشاد ہے کہ جو شخص اس مہینے میں اللہ کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے کوئی غیر فرض سنت یا نفلی عبادت کرے گا تو اس کو اس کو دوسرے زمانوں کے فرضوں کے برابر ثواب ملے گا اور اس مبارک مہینے میں فرضوں کا ثواب دوسرے زمانوں کے ستر فرضوں کے برابر ہوگا یہ صبر اور برداشت کا مہینہ ہے جس کا بدلہ جنت ہے اسی مہینے میں مومن بندوں کے رزق میں اضافہ کیا جاتا ہے یہ اب تک کی زندگی کا نادر موقع ہے اس سے فائدہ آٹھ آئیں خوب خوب اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کریں کیا پتہ اگلا رمضان نصیب میں ہے کہ نہیں اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں اس راہ پر چلنے کی توثیق عطا فرمائے جس پر چلنے سے وہ مالک کل راضی ہو جائے اللہ اسی مبارک مہینے کی برکت سے پاکستان کے ابتلا اور مصائب سے نجات عطا فرمائے اور عالم اسلام کو دشمنوں کے شر سے مامون و محفوظ رکھے ۔آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں