993

پوری دنیا میں آذان کبھی نہیں رکتی ..ایک تحقیق ..

انڈونیشیا کئی ہزار جزیروں پر مشتمل ہے. اس کے مشرقی جزیروں میں فجر ساڑھے پانچ بجے ہوتی ہے.
ہزاروں مسجدوں میں موذن کھڑے ہو کر اذان کہتے ہیں. اذان کے درمیان ایک کلمہ ہے اَشہَدُ اَنَّ مُحَمَّدً رَّسُولُ اللّٰہ . میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے رسول ہیں. یہ شہادت فضائوں میں گونج اٹھتی ہے.انڈونیشیا کے درمیانی جزائر کا وقت ایک گھنٹہ پیچھے ہے. یعنی ایک گھنٹہ بعدمرکزی جزائر میں محمد رسول اللہ کے کلمات بلند ہونا شروع ہو جاتے ہیں. پھر ایک گھنٹہ بعد جاوا اور سماٹرا کے مغربی جزیروں میں یہی نام بلند ہونے لگتا ہے. ایک گھنٹے بعد ملائیشیا کی باری آتی ہے پھر تھائی لینڈ کی. ابھی تھائی لینڈ میں محمدؐ کے نام کی گونج باقی ہے کہ ڈھاکہ میں محمد رسول اللہ کی آوازیں اٹھنے لگتی ہیں. پھر کلکتہ میں . ایک گھنٹہ . ایک گھنٹہ بعد سری نگر میں! سری نگر اور سیالکوٹ میں فجر کا وقت ایک ہی ہے.تاشقند ، سمرقند اور بخارا بھی اسی ٹائم زون میں ہیں. ان تمام شہروں میں محمدؐ کا نام ایک ہی وقت میں گونجتا ہے. پھر افغانستان اور ایران اٹھتے ہیں. پھر خلیج کی ریاستیں اور مسقط! اتنے میں مکہ اور مدینہ میں صبح ہوتی ہے، جہاں سے اس روشنی کا آغاز ہوا تھا. وہاں ہزاروں مسجدوں میں محمدؐ کی رسالت کا غلغلہ برپا ہوتا ہے. استنبول اور خرطوم ایک ہی ٹائم زون میں ہیں. اس سے ایک گھنٹہ پہلے قاہرہ سے لے کر سکندریہ تک محمدؐ کا نام گونجنے لگتا ہے.

پھر خرطوم سے لے کر استنبول تک فضا اس شہادت سے بھر جاتی ہے. پھر یہ سعادت لیبیا میں طرابلس کے ہاتھ آتی ہے. اتنی دیر میں الجزائر سے ہوتی ہوئی، فاس رباط، کاسا بلانکا، طنجہ، قرطبہ، غرناطہ، بارسلونا اور میڈرڈ میں پھوٹنے لگتی ہے. بحراوقیانوس کا مشرقی کنارہ محمدؐ کے نام سے گونجنے لگتا ہے. اب صبح نے بحراوقیانوس پار کرنا ہے. ٹورنٹو سے لے کر فلوریڈا تک، واشنگٹن سے لے کر نیو جرسی تک بے شمار مساجد ہیں جہاں رسالت کی گواہی فضائوں میں تیرتی آسمان کی طرف پرواز کرتی ہے. مگر ٹھہریے، جتنی دیر میں صبح کی اذان کا سفر بحر اوقیانوس پار کرتا ہے، انڈونیشیا کے مشرقی حصے میں، جہاں سے ہم نے یہ سفر شروع کیا تھا، ظہر کی اذانیں گونجنے لگتی ہیں. ظہر، ڈھاکہ اور کلکتہ پہنچتی ہے تو جکارتہ اور سنگاپور میں عصر کی اذانیں ہونے لگتی ہیں. افریقہ میں جب عشاء کی اذانیں ہو رہی ہوتی ہیں تو انڈونیشیا کے مشرقی حصے میں صبح کی اذان ایک بار پھردی جا رہی ہوتی ہے. غور کیجیے، اس کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرۂ ارض پر کوئی وقت ایسا نہیں جب فضا میں محمد رسول اللہﷺ کے کلمات بلند نہ ہو رہے ہوں. ایک دو یا دس مقامات سے نہیں، ہزاروں، لاکھوں مقامات سے! پھر دوبارہ غور کیجیے، یہ اندازہ جو آپ نے لگایا ہے، صرف لمحہ موجود کے حوالے سے لگایا ہے.

آنکھیں بند کر کے سوچیے، ایسا کب سے ہو رہا ہے؟ سینکڑوں سال سے! یعنی کتنی ہی صدیوں سے ہر وقت فضائوں میں، ہر لمحہ زمین کے کسی نہ کسی حصے میں، محمدؐ کا نام گونج رہا ہے. اب دوبارہ آنکھیں بند کرکے سوچیے، قیامت تک ایسا ہوتا رہے گا. جو مسجدیں قائم ہیں، وہ تو قائم ہیں، کتنی نئی مسجدیں تعمیر ہو رہی ہیں. اب مسجدوں کی بات بھی چھوڑیے، جہاں بھی، کسی سکول میں، کسی بازار میں، کسی گھر میں، کسی جنگل میں، کسی دفتر میں، دو یا چار یا پندرہ مسلمان مل کر نماز پڑھتے ہیں، اقامت ضرور کہتے ہیں. ہر اقامت میں محمدؐ کی رسالت پر گواہی دی جاتی ہے! کیا خبر قیامت تک کتنا وقت باقی ہے.کتنے لمحے، کتنے سال، کتنی صدیاں!! ایسا ہی ہوتا رہے گا. سوچیے، اس لمحے کرۂ ارض پر کتنے انسانوں نے صلی اللہ علیہ و سلم کہا ہوگا! جمعہ کے دن ہر امام خطبہ میں قرآن کی آیت پڑھتا ہے: صلوا علیہ وسلموا تسلیما! جیسے ہی اس کے ہونٹوں سے یہ آیت طلوع ہوتی ہے، حاضرین محمدﷺ پر درود بھیجنا شروع کر دیتے ہیں. تصور کیجئے، کتنے کروڑوں انسان ہر جمعہ کے دن ایسا کرتے ہوں گے! چودہ سو سال سے ایسا کرتے آئے ہیں. ایسا کرتے رہیں گے. اور اللہ کی شان ہے کہ پوری دنیا میں آذان کبھی نہیں رکتی.

..