2,735

رمضان اور رب کی رحمتیں : سحرش

رب کی رحمتیں بے شمار ہیں جو سارا سال ہم پر برستی ہیں لیکن ماہِ رمضان میں رحمتیں بونس کے ساتھ برستی ہیں امتِ مسلمہ پر-
رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنے اندر لامحدود، ان گنت رحمتیں سموئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمتیں اور برکتیں نازل ہو رہی ہیں۔ مسلمانوں کے لئے یہ ماہ مقدس نیکیوں کی موسلادھار بارش برساتا ہے اور ہر مسلمان زیادہ سے زیادہ نیکیاں حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ رمضان کا مہینہ باقی مہینوں کا سردار ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ مسلمان جن کی زندگی میں یہ مہینہ آیا اور وہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں حاصل کرنے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں۔
قرآن مجید میں خالق ارض وسماءنے ارشاد فرمایا ہے ”اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کر دیئے گئے تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاﺅ“۔
الله پاک بہت ہی مہربان غفور الرحیم ہے وہ اپنی مخلوق سے ستر ماؤں جتنا پیار کرتا ہے تو ذرا سوچئیے کہ ایک ماں ہی کیسے اپنی اولاد کی تکلیف پر پریشان ہو جاتی ہے تو رب تعالٰی تو اپنی مخلوق اور وہ بھی اپنے پیارے نبی کی امت پر اپنا خاص رحم و کرم نازل فرماتا ہے جس کی ایک مثال یہ ہے کہ الله تعالیٰ نے ہمیں ماہِ رمضان کا مبارک مہینہ نواز کر بخشش کروانے کا ایک اور سنہرا موقع عطا کر دیا ہے

. اس سے بڑھ کر کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے کہ رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہماری زندگیوں میں ایک بار پھر آ رہا ہے جتنا ممکن ہو عبادت میں وقت گزار کر اس مہینے کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں . ہمارا دین اسلام ہمیں ایثار, بھائی چارے کا درس دیتا ہے لیکن یہ سب چیزیں ہم میں کیا کم نہیں ہوتی جارہی ہیں بالکل ایسا ہی ہے رمضان کریم کی آمد کے ساتھ ہی ہم مسلمانوں کو عید کی خریدوفروخت کی فکر ستانے لگتے ہی ہمیں یہ یاد نہیں رہتا کہ ہمارے معاشرے میں کتنے حقدار لوگ ایسے بھی ہیں جو ایک کھجور بھی خریدنے کی حیثیت نہیں رکھتے لیکن ہم اپنی خوشیاں خریدنے میں دوسرے میں خوشیاں بانٹنا بھول جاتے ہیں……
کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ ہمیں ماہِ رمضان کیسے گزارنا چاہئیے؟؟؟؟ ہم سب کو ماہِ رمضان زیادہ سے زیادہ عبادت میں گزارنا چاہئیے اور اپنے گناہوں کی بخشش کا یہ سنہرا موقع نہیں گنوانا چاہئیے اور یقیناً دنیا کا ہر مسلمان اس مہینے میں رَب کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے یہ تو رَب کی طرف سے رحمتوں کا برکتوں کا مہینہ ہے جس میں رزق بھی پہلے سے دوگنا ہوجاتا ہے کیسے مسلمانوں کے دسترخوان بھرے ہوتے ہیں رمضان کا لفظ ”رمضا“ سے نکلا ہے اور رمضا اس بارش کو کہتے ہیں جو کہ موسم خریف سے پہلے برس کر زمین کو گردوغبار سے پاک کر دیتی ہے۔

مسلمانوں کے لئے یہ مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رحمت کی بارش کا ہے جس کے برسنے سے مومنوں کے گناہ دھل جاتے ہیں۔ عربی زبان میں روزے کے لئے صوم کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کے معنی رک جانا کے ہیں یعنی انسانی خواہشات اور کھانے پینے سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک رک جاتا ہے اور اپنے جسم کے تمام اعضاءکو برائیوں سے روکے رکھتا ہے۔ انسان کائنات میں رہتے ہوئے جو کوئی بھی کام کرتا ہے اس کی غرض و غایت اور مقصد ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کی غرض و غایت اور مقصد تقویٰ کو قرار دیا ہے ایک مسلمان روزہ کی وجہ سے برائیوں کو ترک کر دیتا ہے اور نیکیوں کی طرف راغب ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ دین اسلام کے پانچ ارکان ہیں. نماز, روزہ, زکوٰة، حج، كلمہ. رمضان کریم کے روزے امتِ مسلمہ ہر فرض کئے گئے ہیں اور روزہ رکھنا بھی باقی ارکان کی طرح ایک نہایت ہی اہم عبادت ہے روزہ اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ ہی اس کا اجر دے گا. روزے کی فضیلت متعدد احادیث سے ثابت ہے مثلاً ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے: جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے . روزہ ہر مسلمان عاقل, بالغ, اور آزاد اور آزاد پر فرض ہے اس میں مسلمان مرد اور عورت دونوں شامل ہیں اسی مبارک مہینے میں قرآن مجید کا نزول ہوا.

قرآن مجید پورا لیلة القدر رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہوتی ہے اسی مبارک مہینے میں لیلة القدر ہوتی ہے جس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا:- (سورة القدر) ”شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے.” زار مہینے کو اگر گنا جائے تو یہ 83ء سال 4 مہینے بنتے ہیں اور انسان کی اوسطاً عمر اس سے کم ہوتی ہے لیکن اِس امت مسلمہ پر اللہ تعالیٰ کی یہ کتنی مہربانی ہے کہ ہر سال اُسے لیلة القدر سے نواز دیتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرکے 83 سال کی عبادت سے بھی زیادہ اجروثواب حاصل کرسکتا ہے لہٰذا اس مبارک مہینے میں زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کے بندوں کی خوشنودی حاصل کریں. عبادت کا خاص اہتمام کیا جائے, نزدیکی غریب رشتہ داروں کے جو کہ غریب ہوں ان کے لئے روزے کے راشن کا بندوبست کیا جائے. آپ میں سے بہت سے لوگ ہزاروں روپے خرچ کرکے تما پیٹ بھرے لوگوں کی افطاری کا بندوبست کرتے ہیں اور بہت سے حقدار بھوکے پیٹ رہ جاتے ہیں تو ایسے غریب لوگوں کی مدد کی جائے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے. یہی ہمارے دین اسلام کا تقاضا ہے جس میں حقوق العباد پر خاصی تلقین کی گئی ہے.
اللہ تعالیٰ اس مبارک مہینے کے صدقے ہم سب پر اپنی خاص رحمت فرمائے. ہمارے گناہوں کی بخشش فرمائے. نیک عمل کرنے کی استطاعت عطا فرمائے. ہمارے پیارے ملک کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے..
آمین
جزاک اللہ