130

رمضان اور ہمارے بچے : مبصرالرحمن قاسمی .

رمضان المبارک ہمارے بچوں کے لیے ایک تربیتی INCUBATOR ہے، جس میں ایمانی و اجتماعی فضاوں کے درمیان ہمارے بچوں کو بے شمار تربیتی گھونٹ پلائے جاتے ہیں، آپ ہی تصور کرلیں کہ اگر آپ کا ننھا اور کم عمر بچہ روزہ دار ہو تو آپ کی ایمانی کیفیت کیا ہوتی ہے؟
اکثر بچے روزہ رکھنے سے ڈرتے ہیں،کیونکہ انھیں فکر ہوتی ہے کہ عنقریب انھیں کھانے ، پینے اور چاکلیٹ وغیرہ سے ایک لمبے وقفے کے لیے محروم ہونا ہے ، لہذا بعض بچوں کو اس مہینے میں اس خوف کا احساس رہتا ہے کہ وہ روزہ نہیں رکھ سکتے۔ لیکن رمضان کے اس مبارک مہینے میں بعض بچے ایسے بھی ہوتے ہیں جو پوری ہمت اور حوصلے کے ساتھ اس ماہ میں داخل ہوتے ہیں اور کم عمری کے باوجود پورا مہینہ روزہ رکھتے ہیں، دراصل روزے سے ڈرنے والے اور روزوں کو پوری ہمت وحوصلے کے ساتھ رکھنے والے بچوں کے درمیان فرق اُن کے تربیتی خلاء کا ہے۔اگر گھر کے تمام بڑے افراد نماز، روزہ، زکوۃ اور حج سمیت اسلامی شعائر کا احترام کرتے ہیں، رمضان کی آمد پر رمضان کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں اور رمضان کی ایک ایک گھڑی کی قدر کرتے ہیں تو ایسے گھرانوں کے بچے بھی کم عمری کے زمانے سے ہی اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنا شروع کردیتے ہیں۔

بچوں میں رمضان کا شوق اور محبت کیسے پیدا کریں؟ صحابہ رضی اللہ عنہم رمضان میں اپنے بچوں کو روزہ رکھواتے تھے، اور انھیں اس مہینے کے دن کے اوقات میں کھانے پینے سے دور رکھتے تھے، لیکن اس کے بدل میں ان کے لیے کھلونے وغیرہ کا نظم کرتے تھے اور ان کھلونوں کے ذریعے بھوک وپیاس کی جانب ان کی توجہ ہونے نہیں دیتے تھے۔ یہ صحابہ کرام کا طریقہ کار تھا، ہمیں بھی اپنے بچوں کے ساتھ اس طریقے کو اپنانا چاہیے، کیونکہ یہ ضروری ہے کہ بچے رمضان کی عظمت، تقدس، برکت اور رحمت کو سمجھیں اور ان کے دلوں میں رمضان کا شوق اور محبت بیٹھے۔ بچپن سے ہی بچوں میں رمضان کی قدر وقیمت، محبت اور احترام کو پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ وہ بڑے ہوکر اس عظیم الشان مہینے کی قدر کرسکیں، اکثر والدین کی یہ شکایت رہتی ہے کہ ان کا بچہ رمضان کے روزے نہیں رکھتا یا رمضان میں دن کے اوقات میں سگریٹ پیتا ہے، افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں اس طرح کی مثالوں میں آئے دن اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے، یہ صرف اور صرف والدین کی اس کمزوری کی وجہ سے ہورہا ہے کہ انھوں نے بچپن میں بچوں کے دلوں میں اس عظیم الشان اور برکت ورحمت والے مہینے کی محبت پیدا نہیں کیں۔

اس مبارک مہینے کو بچوں کے لیے مفید کیسے بنائیں؟ نماز تراویح بچوں میں رمضان کا شوق اور محبت پیدا کرنے کے لیے ایک بڑا ذریعہ ہے، بعض بچوں میں مسجد سے بہت زیادہ لگاو رہتا ہے اور وہ مسجد میں زیادہ دیر تک ٹھہرنے کو پسند کرتے ہیں، ایسے بچے بڑوں کے ساتھ شوق سے تراویح کی مکمل نماز پڑھتے ہیں ، بلکہ بعض تہجد اور اعتکاف میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ لیکن بعض بچےاپنے والدین کے ساتھ عشاء کی نماز ادا کرتے ہیں اور پھر اس کے بعد مسجد کے باہر ہی چیخ پکار میں لگ جاتےہیں، اور بعض بچوں کا تو حال یہ ہوتا ہے کہ وہ والدین اور گھر کے افراد کے ساتھ ساتھ خود بھی ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں یا اسمارٹ فونس میں مصروف ہوجاتے ہیں۔اس طرح کے بچے انسانی شیطانوں کی تیار کردہ زیب وزینت کے شکار ہوجاتے ہیں۔رمضان کا مہینہ بچوں میں ایمانی بیج بونے کے لیے ایک سنہرا موقع ہے، ہم اپنے بچوں کے لیے اس سنہرے اور خوبصورت موقع کو ضائع نہ کریں۔ رمضان میں نمازوں کو چھوڑ کر صرف روزہ رکھنا نہ صرف بچوں بلکہ بعض بڑوں کی بھی عادت بن جاتی ہے، لیکن ایسی صورتحال میں بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کرکے نماز کے بارے میں نہ بولا جائے اور نہ ہی انھیں اس بات کا احساس دلایا جائے

کہ نماز چھوڑنے کی وجہ سے ان کا روزہ قبول نہیں ہوگا، بلکہ اس موقع پر بچے کے والد یا ماں بچے کو اس طرح کہے:” بیٹا! اگر تم روزے کی حالت میں نماز کی پابندی کروگے تو اللہ تعالی تم سے اور زیادہ محبت کرے گا، تم تو شروع مہینے سے ہی روزہ رکھ رہے ہو، تم قابل تعریف ہو، اگر نمازوں کی پابندی کروگے تو اللہ تعالی کے نزدیک اور بھی مقبول اور اچھے شمار ہوگے”۔اس طرح کی حوصلہ افزا عبارتیں روزے کے سلسلے میں بچوں کے جذبات کو نقصان نہیں پہچاتی ہیں بلکہ انھیں محبت کے ساتھ اللہ تعالی کی مزید اطاعت وفرمانبردارپر آمادہ کرتی ہیں۔
رمضان اور روزے سے بچوں کوحاصل ہونے والے فائدے: ۱- صبر : روزےکے ذریعے بچے میں صبر پیدا ہوتا ہے اور بھوک وپیاس کو برداشت کرنے کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔
۲۔مراقبہ : (یعنی اللہ تعالی کا خوف اور توجہ) بچہ روزے کی حالت میں کھانے پینے سے اس لیے بچا رہتا ہے کیونکہ اس کا یہ یقین رہتا ہےکہ اللہ تعالی دیکھ رہا ہے۔
۳۔مسجد سے لگاو اور محبت : والد کے ساتھ نماز تروایح میں اور دیگر نمازوں میں مسجد میں حاضری اورمسجد کے خصوصی پرگراموں میں شرکت بچے میں ایمانی روح پیدا کرتی ہے، جب وہ بڑا ہوتا ہے تو اسے یہ تمام باتیں یاد رہتی ہیں، اور بڑا ہونے کے بعد یہی چیزیں اسے توبہ اور اطاعت وفرمانبرداری پر وقتا فوقتا آمادہ کرتی رہتی ہیں۔

۴- قرآن سے لگاو : رمضان میں جب بچہ اپنے والدین اور بڑے بہن بھائیوں کو کتاب اللہ کی تلاوت میں مشغول دیکھتا ہے تو وہ بھی بڑا ہونے کے بعد گھر کے اس ماحول کو اپناتا ہے، اس میں بھی قرآن سے محبت اور لگاو پیدا ہوتا ہے،نہ صرف یہ بلکہ اس ماحول کی وجہ سے بچہ بہت ہی آسانی کے ساتھ قرآن بھی پڑھنے لگتا ہے اور بڑا ہونے کے بعد اس کی زبان قرآن پڑھتے وقت اٹکتی نہیں ہے،کیونکہ وہ قرآن کے ماحول سے مانوس رہتا ہے۔
۵۔ خاندانی جوڑ اور رشتہ داری میں ربط : یہ مقدس مہینہ خاندان اور رشتہ دار کو جوڑنے اور خاندانی ربط کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم موقع ہے، اس مہینے میں پورا خاندان ایک ہی دسترخوان پر دن میں کم ازکم دو مرتبہ جمع ہوتا ہے، اس جمع ہونے کا بچوں کی شخصیت پر گہرا اثر پڑتا ہے، اس کی شخصیت میں مضبوطی اور پختگی پیدا ہوتی ہے۔ایک جڑے ہوئے اور مربوط خاندان کا بچہ ؛بکھرے ہوئے اور رشتے ناطے ٹوٹے ہوئے خاندان کے بچے کے مقابلے نفسیاتی، ذہنی اور عقلی طور پر بہت زیادہ مستحکم اور مضبوط ہوتا ہے۔ اسی طرح خاندان کے افراد کے درمیان ایک دوسرے کے پاس آنے جانے کا عمل بچوں میں رشتہ داری کو جوڑے رکھنے کی اہمیت پیدا کرتا ہے۔ ۶- جود وسخاوت : رمضان میں دیگر مہینوں کے مقابلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت میں اضافہ ہوجاتا تھا، والدین ؛رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت کو رمضان میں زندہ کریں

اور صدقہ وخیرات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے کر رمضان کی مبارک ساعتوں میں بچوں میں صدقہ دینے کا شوق پیدا کریں۔
بچوں میں ماہ رمضان کا شوق پیدا کرنے کے چند مفید طریقے : ۱۔ سجاوٹ : راستوں اور خصوصا گھروں میں ماہ رمضان کی آمد کے موقع پر سجاوٹ اور زیب وزینت کا بچوں پر بڑا اثر ہوتا ہے، خاص طور پر اگر بچوں کو بھی گھر کو پررونق بنانے اور سجاوٹ کے اس کام میں شریک کیا جائے تو بچے اس ماہ کی آمد کے بہت زیادہ منتظر ہوتے ہیں۔ اس موقع پر “خوش آمد ید رمضان”،” ماہ صیام کی آمد مبارک” اور”مرحبا ماہ غفران”، جیسی عبارتیں لکھی جائیں اور جگہ جگہ چسپاں کی جائیں تو بچےاس مقدس مہینے کو عید تصور کرنے لگتے ہیں اور پھر اس مہینے کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے نفسیاتی طور پر آمادہ رہتے ہیں۔
۲۔ تحفہ اور کھلونے : ماہ رمضان کے آغاز سے پہلے ہی مبارک مہینے کی نسبت سے بچوں کے لیے تحفے تحائف اور کھلونے لائیے، تاکہ بچوں کے دلوں میں اس مہینے کی بے شمار خیر وبرکات سے محبت پیدا ہوں اور وہ روزہ رکھنے پر خود ہی آمادہ ہوجائیں۔
۳۔ روزے رکھوانے میں تدریج سے کام لیجیے : یہ ضروری نہیں ہے کہ بچے شروع مہینے سے اخیر مہینے تک پورے روزے رکھیں، بلکہ ایک دن روزہ رکھوائیے اور پھر ایک سے دو دن کے ناغے کے بعد پھر بہلا کر روزہ رکھنے پر آمادہ کیجیے، اس کے لیے بچوں کے درمیان مقابلہ رکھیے، اس طور پر کہ بچوں کو یہ بتائیے کہ جو زیادہ سے زیادہ روزے رکھے گا اس کے لیے سب سے بڑا انعام، جو مکمل نماز تراویح پڑھے گا اس کے لیے یہ اور یہ انعام وغیرہ۔

۴۔ نئے کپڑے خریدیئے : رمضان کی آمد سے پہلے بچوں کے لیے نئے کپڑے خریدیئے اور انھیں بتائیے کہ یہ عبادت کےکپڑے ہیں،لڑکے کے لیے نیا لباس، قرآن مجید کا نیا نسخہ اور ایک تسبیح خریدیئے، اور لڑکی کے لیے نیا برقع، اسکارف اور قرآن مجید کا نیا نسخہ خریدیئے تاکہ بچے مسجد جانے اور قرآن مجید کو پڑھنے کے لیے نفسیاتی طور پر تیار ہوں۔
۵۔ رمضان میں ٹی وی بند کردیجیے : ماہ مقدس کی ان برکتوں اور رحمتوں والی ساعتوں میں ٹی وی بے فائدہ اور بے کار ہیں، اب آپ خود ہی گھر کے خاص پروگرام بنائیے مثلا آپ اس طرح کےپروگرام سیٹ کرسکتے ہیں: گھریلو حفظ قرآن کامسابقہ ، یومیہ اجتماع جس میں گھر کے تمام افراد اکھٹا ہوں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا مذاکرہ کیا جائے، گھر کےتمام افراد پر مشتمل ختم قرآن مجید کا حلقہ جس میں ہر فرد تھوڑا تھوڑا پڑھیں اور سب سنیں، گھر کے تمام افراد کی نماز تراویح میں شرکت، رشتہ داروں اور دوست واحباب سے خصوصی ملاقات اور رمضان میں ایک سے زائد مرتبہ ختم قرآن کرنے والوں کے درمیان مسابقہ، وغیرہ ۔ اس طرح کے پروگرام آپ کی قیمتی ساعتوں کو روحانی بنائیں گے، ٹی وی سے بے نیاز کریں گے، بچوں کے دلوں میں رمضان کی محبت اور شوق اور اطاعت کا جذبہ پیدا کریں گے۔