81

انتخابی فرائض کیلئے ساڑھے تین لاکھ فوجی نفری کی فراہمی ممکن نہیں

اسلام آباد (طارق بٹ) 2013ء کے عام انتخابات کے مقابلے میں اس بار امن و امان کی نمایاں بہتر صورتحال کے باوجود الیکشن کمیشن نے بھاری تعداد میں فوجی نفری تعینات کرنے کی استدعا کی ہے۔ سابق جنرلوں کا کہنا ہے کہ ساڑھے تین لاکھ کی نفری بٹانا فوج کے لئے ناممکن ہوگا۔ 2018ء کے عام انتخابات 25 جولائی کو ہونے والے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ترجمان الطاف خان نے کہا کہ انتخابات کے لئے پرامن اور پرسکون ماحول فراہم کرنا اوّلین ترجیح ہے۔ 2013ء کے عام انتخابات میں 70 ہزار فوجی تعینات کئے گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ نفری کی تعداد کے حوالے سے اعداد و شمار عارضی اور عبوری ہیں۔ جب نفری طے کر لی جائے گی تو نوٹیفائی بھی کر دیا جائے گا۔

تاہم یہ حتمی طور پر طے کر لیا گیا ہے کہ فوجی اہلکار پولنگ اسٹیشنز کے اندر اور باہر بھی تعینات ہوں گے۔ جس کا سیاسی جماعتیں بھی مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ انتخابات کے لئے ضابطہ اخلاق طے کرنے کی غرض سے گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر فوج تعینات کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ حساس تصور کئے جانے والے پولنگ اسٹیشنز میں فوج کی اضافی نفری تعینات ہوگی۔ الیکشن کمیشن تخمینہ لگانے کے بعد فوجی نفری کی قطعی تعداد کے حوالے سے وزارت دفاع کو درخواست دے گا۔ سابق سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) آصف یٰسین ملک نے اپنی گفتگو میں کہا کہ انتخابی فرائض کے لئے ساڑھے تین لاکھ فوجی دیئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔