87

ضرورت کے تحت کرپشن جائز، چمچے کو ووٹ دو‘‘

انوکھے سیاستدان، مزاحیہ کردار، 42 مرتبہ الیکشن ہارنے والے آپ جناب سرکار پارٹی کے چیئرمین نواب امبر شہزادہ چمچے کے نشان کے ساتھ لاہور کے حلقے این اے 125 سے مسلم لیگ ن کی امیدوار مریم نواز اور پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد کا مقابلہ کریں گے۔
لاہور سے تعلق رکھنے والے نواب امبر شہزادہ اپنے حلیے سے مزاحیہ کردار نظر آتے ہیں تاہم غیر سنجیدہ سیاست سنجیدگی سے کرنے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں۔
امبر شہزادہ خود کو متبادل وزیر اعظم اور نیم کرپٹ سیاستدان کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ سیاستدان کو شوق کے تحت نہیں بلکہ ضرورت کے تحت کرپٹ ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ حلقہ بندیوں سے پہلے کا لاہور کا حلقہ این اے 120 حلقہ بندی کے بعد این اے 125 میں تبدیل ہوچکا ہے جہاں سے امبر شہزادہ نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔ وہ اس حلقے سے چھٹی بار الیکشن لڑ رہے ہیں، اس مرتبہ ان کا انتخابی نشان چمچہ ہے ، گزشتہ ضمنی انتخاب میں انہوں نے بیگم کلثوم نواز اور پی ٹی آئی کی ڈاکٹر یاسمین راشد کے مقابلے میں صرف 7 ووٹ حاصل کیے تھے۔
4 صدارتی اور 3 سینیٹ کے الیکشن سمیت 42 انتخابات میں شکست پانے والے ڈاکٹر امبر شہزادہ کا اپنے انتخابی نشان کے حوالے سے کہنا ہے کہ وہ عوام کے چمچے ہیں۔ وہ ان امیدواروں کو جنہیں کسی پارٹی کی جانب سے ٹکٹ نہیں مل سکا ہے یہ مشورہ دیتے نظر آتے ہیں کہ وہ افراد انتخابی نشان کے لیے چمچے کا ہی انتخاب کریں تاکہ بعد میں ان کے ساتھ مل کر اپنی حکومت بنا سکیں۔
نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ کے مطابق عمران خان کی سیاستی جھوٹی ہے جبکہ ریحام خان نے انہیں بے حد متاثر کیا ہے۔
انہیں ریحام خان سے شکوہ بھی ہے کہ انہوں نے عمران خان سے شادی کرلی انہیں میں کیوں نظر نہیں آیا؟ امبر شہزادہ کا کہنا ہے کہ میرے دروازے اب بھی ریحام خان کیلئے کھلے ہیں۔